کراچی : زاہد اور سرفراز بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین کا دھر نا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کراچی سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین کا احتجاج 23 ویں روز بھی جاری رہا۔

مظاہرین نے اپنے پیاروں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو گھروں سے جبری طور پر اٹھایا گیا اور آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا، جو آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

پریس کلب کے باہر لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں شریک لواحقین نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور اعلان کیا کہ جب تک ان کے بیٹے بازیاب نہیں ہوتے، احتجاج جاری رہے گا۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ قانونی عمل کے ذریعے شواہد سامنے آئیں۔

اس موقع پر لاپتہ نوجوان زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کو بے بنیاد الزامات پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ "اگر میرے بیٹے پر کوئی جرم ثابت ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے، تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔ عدالتوں کو نظرانداز کر کے نوجوانوں کو جبری طور پر غائب کرنا انصاف کا قتل ہے۔”

اسی طرح، لاپتہ سرفراز بلوچ کی والدہ بی بی گلشن بلوچ نے کہا کہ ان کا بیٹا بالکل بے قصور ہے۔ "میرے بیٹے کو کسی جرم کے بغیر گھر سے اٹھایا گیا۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور اپنے بیٹے کو واپس چاہتے ہیں۔”

Share This Article