بی وائی سی کا جبری گمشدگیوں کے عالمی دن پر مختلف تقریبات کے انعقاد کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے موقع پر “یاد ہی شناخت ہے” کے عنوان سے مختلف پروگراموں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ہر سال 30 اگست کو دنیا بھر میں عالمی یومِ جبری گمشدگی منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اس دن کو اس سنگین جرم کو اجاگر کرنے کے لیے تسلیم کیا تاکہ دنیا یہ سمجھ سکے کہ جبری گمشدگی محض افراد کو غائب کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کی شناخت، تاریخ اور یادداشت کو مٹانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی کے منتظر ہیں۔ ان سے نہ صرف اپنے عزیزوں کا وجود چھینا گیا ہے بلکہ ان کی آواز اور جدوجہد کو دبانے کے لیے انہیں مسلسل دھمکیوں، اذیتوں اور “دہشت گردی” جیسے منظم الزامات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اسی تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اس سال عالمی یومِ جبری گمشدگی کے موقع پر ایک قومی مہم کا آغاز کر رہی ہے جس کا عنوان ہے”‎یاد ہی شناخت ہے ، یادوں کو غائب نہیں کیا جا سکتا”۔

بی وائی سی نے بلوچ عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دن اپنے اجتماعی عزم کو دنیا کے سامنے لائیں۔اور 30 اگست، شام 5 بجے اپنے علاقے کے کسی نمایاں مقام پر جمع ہوں۔ اپنے جبری گمشدہ پیاروں کی کوئی نشانی ساتھ لائیں جس میں تصویر، کپڑے، جوتے، زیورات، ایوارڈز، کامیابیاں یا کوئی اور یادگارہوں۔

بیان میں کہا گیا کہ ان نشانیوں کو تھام کر 5 منٹ کی خاموشی اختیار کریں تاکہ یہ دنیا کے سامنے ایک اجتماعی پیغام بن سکے۔اور ‎یادوں کو مزاحمت میں بدلیں۔ اپنے پیاروں کی یادوں کو فن کے ذریعے زندہ کریں۔ کوئی تصویر بنائیں، شعر یا تحریر لکھیں، یا جو عزیز جبری گمشدگی کے بعد شہید ہوئے ان کی قبروں پر تصویری یادگاریں رکھ کر تصویریں بنائیں۔

‎ • اپنی کہانیاں، جدوجہد اور یادداشتیں بی وائی سی کے واٹس ایپ پر شیئر کریں۔‎ بلوچ یکجہتی کمیٹی ان آوازوں کو اپنی سوشل میڈیا مہم کے ذریعے دنیا تک پہنچائے گی۔‎ہماری پہچان ہماری یادوں اور ہماری اجتماعی جدوجہد سے جڑی ہے۔ ہم پرعزم ہیں کہ ہر جبری گمشدہ فرد کی بازیابی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

Share This Article