راولاکوٹ (پاکستانی مقبوضہ کشمیر) جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے آزادی پسندوں پر 19 جولائی کو کیے گئے قاتلانہ حملے کے خلاف آزادی پسند سراپا احتجاج ہیں۔ وہ سارا معاملہ پولیس کی گواہی میں ہْوا اور واقعے کی ویڈووز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ سارے ثبوتوں کے ہوتے ہوئے بھی پولیس کی جانب سے تاحال واقعے کی ایف آئی آر تک درج نہ کی گئی ہے۔
آزادی پسند رہنماؤں کا آج کہنا تھا کہ جب تک ایف آئی آر نہیں ہوتی اور انتظامیہ حسن ابرہیم کی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا مقدمہ درج کر کے ملوث اہلکاروں کو گرفتار نہیں کرتے تب تک دھرنا جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی غاصب قوتوں کے سہولت کار اور الہ کار آزادی پسندوں پر حملے کر کے آقاوں کے تلووں کی پالش کرنا چاہتے ہیں ایسے آلہ کاروں اور وظیفہ خوروں کو اگر لگام نہ دی گء تو ہر چوک و چوراہے میں انکا مقابلہ کریں گئے۔
مظاہرین نے فیسوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء کے مطالبات کی بھرپور حمائت کرتے ہوئے اْن کا مکمل ساتھ دینے کا اعلان کیاا۔ مظاہرین نے الحاقِ پاکستان کی نام نہاد قرارداد کی کاپی بھی نذرِ آتش کی اور ایکٹ 74 و معائدہ کراچی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
احتجاجی مظاہرے سے این ایس ایف، ایس ایل ایف، لبریشن فرنٹ، جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ناصر لبریز ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ایسے اوچھے ہتکھنڈوں سے آزادی پسندوں کو مغلوب نہیں بنایا جا سکتا اور ہم ہر طرح کی بربریت کے خلاف مزاحمت کرتے رہینگے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی ایسے تمام اقدامات کی سختی سے مزمت کرتی ہے اور ہم مکمل طور پر نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن اور نیشنل عوامی پارٹی کے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
نیشنل عوامی پارٹی کے سینئر رہنما اظہر کاشر کا کہنا تھا کہ ہم ڈرنے والے نہیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر تقسیمِ ریاست کے لئے کام کرنے والے اور قابضین کے سہولتکاروں کو للکار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ مکمل طور پر شرپسند عناصر کے ساتھ ملی ہوء ہے اور فاروق حیدر سمیت سب آزادی پسندوں کو ڈرا دھمکا کر قومی آزادی کے نعرے کو قد کرنا چاہتے ہں جو کہ کسی صْورت ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اخلاقیات کا درس دینے والے حسن ابراہیم اپنے کارکنوں سے قاتلانہ حملے کرواتے ہیں اور مقبول بٹ شہید کے پوسٹرز کو پاؤں تلے روندنے کی کوششیں کرواتے ہیں مگر اْنہیں سوشل میڈیا پر اخلاقیات کی باتیں کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔
جموں کشمر لبریشن فرنٹ (صغیر) کے چیئرمن سردار صغر ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی واقعے کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج ہونے تک دھرنے کا اعلان کر چْکی ہے۔ اب ہم اْس وقت تک نہیں اْٹھینگے جب تک ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو اگر یہ گمان ہے کہ آزادی پسندوں کو ڈرایا جا سکتا ہے تو وہ آ کے اپنا شوق پْورا کر لے۔ انہوں نے کہا کہ سردار ابراہیم کوئی پیغمبر یا ولی نہیں بلکہ ریاست کی تقسیم کا ایک کردار ہے جس نے مہاراجہ کے خلاف عوامی بغاوت کو قابض مْلک کے اشارے پر ریاست کی تقسیمی کی تحریک میں بدل دیا۔ اْنکا کہنا تھا کہ مہاراجہ کے خلاف جدوجہد میں ہم ابراہیم خان کو سراہتے ہیں مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ اْس کا ہر کام درست تھا۔ ریاست کو تقسیم در تقسیم کرنے والے اب آ کر ریاست کے تشخص کی محض باتیں کرتے ہیں اور عمل میں پاکستانی ایجنسیوں کی دلالی کرتے ہیں۔ اْن کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست کے ہر شہری کا حق ہے کہ وہ چاہے پاکستان سے الحاق کا نظریہ رکھے ہندوستان کے ساتھ الحاق کایا خودمختاری کا اْن کے لیے سبھی قابلِ احترام ہیں۔ مگر جو لوگ ایجنسیوں سے تنخواہ لے کر کام کرتے ہیں اْنہیں ہم سرعام گماشتہ، غدار، اور وطن فروش کہتے ہیں۔ اْنکا کہنا تھا کہ حکومت عوامی طاقت کے آگے کچھ نہیں کر سکتی لہذا بہتر یہی ہے کہ جلد از جلد دی گی درخواست کے مندرجات کے مطابق قانونی کارواء کر کے اپنی ذلت کو بچائے ورنہ ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔