بلوچستان کے خضدار کے نواحی علاقے کوشک سے تعلق رکھنے والی یتیم لڑکی صغریٰ بی بی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہیں ان کے پڑوسی اسامہ نے اغوا کر کے تشدد اور مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ لڑکی اپنی والدہ، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے ہمراہ خضدار پریس کلب پہنچیں، جہاں ان کی والدہ نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر انصاف کی فریاد کی۔
پریس کانفرنس میں صغریٰ بی بی نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ درزی کے پاس جا رہی تھیں، اسی دوران ملزم نے مبینہ طور پر گاڑی میں زبردستی اٹھا کر اغوا کیا۔ ان کے مطابق ملزم نے تشدد کے ساتھ ساتھ نشہ آور اشیا کا استعمال کروایا اور ان کے ساتھ مبینہ زیادتی کی۔ بعد ازاں انہیں چند گھنٹے بعد چھوڑ دیا گیا، تاہم اس وقت تک ان کی حالت انتہائی خراب ہو چکی تھی۔
صغریٰ بی بی نے کہا: "میں ایک یتیم لڑکی ہوں، اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں موت کو قبول کر لوں گی۔ یہ صرف میرا نہیں بلکہ بلوچ قوم کی غیرت کا مسئلہ ہے۔” ان کی والدہ اور دیگر رشتہ داروں نے بھی بااثر ملزم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر انصاف نہ ملا تو خواتین مزید عدم تحفظ کا شکار رہیں گی۔
مقامی پولیس کے مطابق شکایت درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں، تاہم ملزم تاحال گرفتار نہیں ہو سکا۔ یہ واقعہ خضدار میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور عدم تحفظ کی صورتحال کا عکاس ہے۔