کراچی پریس کلب کے باہر جبری طور پر لاپتہ یونیورسٹی آف کراچی کے طالبعلم زاہد علی بلوچ کی بازیابی کے لیے اہلخانہ اور شہریوں نے پرامن احتجاجی واک کا انعقاد کیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ زاہد سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔
زاہد علی بلوچ ، جو یونیورسٹی آف کراچی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے 25 سالہ طالبعلم تھے، کو 17 جولائی 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔ وہ رکشہ چلا کر اپنے گھرانے کی کفالت بھی کرتے تھے۔ ان کی گمشدگی کو 39 دن گزر چکے ہیں۔
اہلخانہ کے مطابق زاہد کے والد عبد الحمید، جو ہیپاٹائٹس کے مریض ہیں، گزشتہ 19 روز سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ میں موجود ہیں اور شدید مشکلات کے باوجود اپنے بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کئی ہفتے گزرنے کے باوجود حکام کی جانب سے نہ کوئی وضاحت سامنے آئی ہے، نہ قانونی کارروائی کی گئی، جس سے خاندان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔