کراچی : زاہد بلوچ کی بازیابی کیلئے احتجاجی واک کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

کراچی پریس کلب کے سامنے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار زاہد بلوچ کی بازیابی کیلئے احتجاجی کیمپ کو 19 دن مکمل ہونے کے بعد کل بروز اتوار شام پانچ بجے احتجاجی واک کا اعلان کیا گیا ہے۔

کراچی یونیورسٹی کے گریجویٹ زاہد علی بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے۔

احتجاجی کیمپ میں زاہد بلوچ کے والد نے کہا کہ میرے بیٹے زاہد علی بلوچ کو زبردستی لاپتا ہوئے 38دن مکمل ہو چکے ہیں۔ آج تک ہمیں یہ علم نہیں کہ ہمارا بیٹا کہاں ہے، کس حال میں ہے، اور کس جرم کی سزا بھگت رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زاہد علی بلوچ کو 17 جولائی 2025 کو شام 5:30 بجے کراچی میں، سواری کا انتظار کرتے ہوئے، ریاستی اداروں کے اہلکار زبردستی ساتھ لے گئے۔آج 38دن گزر چکے ہیں، مگر ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں!

ان کا کہنا تھا کہ اگر زاہد پر کوئی الزام ہے تو آئین اور قانون کے مطابق انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس طرح کی جبری گمشدگیاں ایک خاندان کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ کو آج ,انیسواں دن ہے اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک زاہد بازیاب نہیں ہو جاتے۔

ہم انسانی حقوق کی تنظیموں، میڈیا، اعلیٰ عدلیہ، اور ہر انصاف پسند فرد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ زاہد کی بازیابی کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔

اہلخانہ کے مطابق 17 جولائی کی شام وہ کراچی میں سواری کا انتظار کر رہے تھے جب سیکیورٹی اہلکار انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے اور تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

زاہد کے والد شدید جگر کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ گھر والے کرب اور اذیت میں دن رات اس کے انتظار میں ہیں۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اگر زاہد پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، جبری گمشدگیاں ناقابلِ برداشت ہیں۔

کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ کو 19 دن مکمل ہوچکے ہیں اور کل بروز اتوار شام پانچ بجے لواحقین کی جانب سے احتجاجی واک کا اعلان کیا گیا ہے۔

لواحقین نے انسانی حقوق کی تنظیموں، اعلیٰ عدلیہ، میڈیا اور انصاف پسند افراد سے اپیل کی ہے کہ زاہد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔

Share This Article