اقوامِ متحدہ کا غزہ میں باقاعدہ قحط کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اقوام متحدہ نے جمعے کے روز باضابطہ طور پر غزہ میں قحط کا اعلان کرتے ہوئے اس کی وجہ اسرائیل کی طرف سے امداد میں ’’منظم رکاوٹ‘‘ کو قرار دیا ہے۔

جرمن ڈویلپمنٹ منسٹر ريم العبلی رادوفان نے غزہ کی پٹی میں نمایاں طور پر زیادہ امداد پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی طرف سے یہ مطالبہ ایک بین الاقوامی فوڈ سکیورٹی اتھارٹی کی طرف سے پہلی بار باضابطہ طور پر علاقے کے ایک حصے میں قحط کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

جرمنی کی خاتون منسٹر نے کہا کہ اقوام متحدہکی حمایت یافتہ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) کی رپورٹ غزہ میں تباہ کن صورتحال کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ’’زیادہ سے زیادہ لوگ، خاص طور پر بچے، ہماری آنکھوں کے سامنے بھوک سے مر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔ قحط مکمل طور پر انسانوں کا پیدا کردہ ہے۔‘‘

آئی پی سی نے جمعہ 22 اگست کو غزہ گورنریٹ میں قحط کی تصدیق کی، جو ایک انتظامی علاقہ ہے، جس میں غزہ شہر بھی شامل ہے۔

قحط کا باضابطہ اعلان اس وقت کیا جاتا ہے، جب صورتحال تین معیارات پر پوری اُترتی ہو۔

کم از کم 20 فیصد گھرانے خوراک کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہوں۔

کم از کم 30 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں۔

ہر 10,000 باشندوں میں سے کم از کم دو بالغ یا چار بچے روزانہ بھوک، غذائی قلت اور بیماری کے سبب مر رہے ہوں۔

جرمن ڈویلپمنٹ منسٹر نے مزید کہا، ’’امدادی ترسیلات تک رسائی میں قدرے بہتری آئی ہے لیکن آئی پی سی کی رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ یہ بالکل بھی کافی نہیں ہے۔ فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے اور اسی کے ساتھ حماس کو یرغمالیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرنا چاہیے۔‘‘

Share This Article