بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے حمل بلوچ کے گھر پر حملہ اور ”اوست“ویلفیئر آرگنائزیشن کے عہدیداروں کی ریاستی اداروں کے ہاتھوں گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ریاستی بربریت میں اضافہ ہورہاہے۔ اجتماعی سزا کا دائرہ جلاوطن جہدکاروں کے خاندان اورسماجی کارکنوں تک بڑھایا جاچکا ہے۔ جولوگ جان بچا کر یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں پناہ حاصل کرکے پاکستان کے بربریت کے خلاف آوازاٹھارہے ہیں، ان کے خاندان ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اور بے سہارا لوگوں کے لئے کام کرنے والے غیرسیاسی ادارے بھی ریاستی دہشت گردی کے بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مکمل فوج کی عملداری ہے۔ اگر نام نہاد جمہوری حکومت کا حوالہ دیا جائے تو ہر نئی حکومت کے ساتھ اجتماعی سزا کے جارحانہ حکمت عملی میں اضافہ کیا جاتاہے۔ مشرف کے دور میں لوگوں کو اغوا کرکے ٹارچر کیا جاتا تھا۔ پیپلز پارٹی نے اس میں ”مارو اور پھینکو“ جبکہ مسلم لیگ نواز نے اس میں جعلی انکاؤنٹرز، اجتماعی سزا اور اجتماعی قبروں کا اضافہ کیا۔ آج ریاست مدینہ کے دعویدار نام نہاد ”تحریک انصاف“ نے بلوچستان میں سماجی تنظیموں اور باہر بیٹھے بلوچ رہنماؤں کے رشتہ داروں کو حراساں کرنے کی جارحیت کا اضافہ کیا ہے جس سے بلوچستان میں مکمل طورپر انسانی المیہ جنم لے چکاہے۔
ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دن پاکستانی فورسز اور اس کے ہمنواؤں نے پنجگور میں بی این ایم جرمنی زون کے صدرحمل بلوچ اور شہید داؤد بلوچ عرف حمید بلوچ کے گھر پرحملہ کردیا۔ فوج کے آلہ کاروں نے پارٹی کے جلاوطن کارکن کے گھر فائرنگ کرکے گھر والوں کو حراساں کیا،انہیں شدیدذہنی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان مذموم حربوں کا مقصد بلوچستان اور بلوچستان سے باہر پاکستانی مظالم پر آواز اُٹھانے والی غیور اور باشعور بلوچوں کو اپنے حقوق اور جہد ِ آزادی سے دستبردار کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ اسی طرح کئی جلاوطن دوستوں کے رشتہ داروں کی جائیداد اور کاروبار پر قبضہ اور قریبی رشتہ داروں کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا ہے تاکہ سیاسی جہد کاروں کو دباؤ میں لایا جائے۔ بلوچ جدوجہد میں شامل میں تمام جہدکاراپنی شعور اورضمیر کی آوازپر قومی تحریک کا حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان کی حیوانیت و درندگی انہیں اپنے کاز سے دست بردار نہیں کرسکتاہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی تنظیم ”اوست“ ویلفیئر آرگنائزیشن کے چیئرمین محمد جان دشتی کو کراچی سے لاپتہ کیا گیا۔ اس سے قبل ”اوست“کے جنرل سیکریٹری جنرل وفا بلوچ کو 9 جولائی کی رات کو لاپتہ کردیا گیا تھا۔لوگوں کو بنیادی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے ریاستی بربریت اور استحصال سے لوگوں کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے۔ ایک امیر سرزمین کے باشندے معمولی علاج اور نان شبینہ کا محتاج بن گئے ہیں۔ ایسی حالت میں ”اوست“ جیسی غیر سیاسی تنظیمیں لوگوں کا سہارا بن رہے ہیں جومخیر لوگوں سے چندہ اکٹھا کرکے لاچار اور بے بس لوگوں کی مدد کررہے ہیں۔ اب ریاست نے ایسے فلاحی تنظیموں کے خلاف یلغار کردیا ہے۔
ترجمان نے کہا”اوست“ویلفیئر آرگنائزیشن نے کینسر میں مبتلا کئی غریب لوگوں کا علاج کرایا ہے۔آج بھی کئی مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں،۔ ان کا بیڑہ اوست کے کمزور کندھوں پر ہے۔ اوست پر یلغار ان بے سہارا لوگوں کو نشانہ بنانا ہے۔ غیر سیاسی اور فلاحی اداروں کے خلاف یہ اقدامات بلوچ کش جارحیت کا ایک حصہ ہے۔