اسرائیل میں لاکھوں افراد کا غزہ جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اسرائیل میں لاکھوں افراد نے غزہ جنگ کے خاتمے اور حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے مظاہرے کیے۔

اتوار کو روز سب سے بڑا مظاہرہ تل ابیب میں ہوا۔

مظاہرے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اسرائیل حکومت کے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے نے حماس کے قید میں موجود 20 کے قریب یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اس ملک گیر ہڑتال کے نتیجے میں اسرائیل کے کچھ علاقوں میں سڑکیں، دفاتر اور یونیورسٹیاں بند رہیں جبکہ 40 کے قریب مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے مظاہروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کے نتیجے میں ’حماس کے موقف کو تقویت ملے گی‘اور صرف یرغمالیوں کی رہائی کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہوگا۔

یہ مظاہرے اسرائیل کی جنگی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر پر قبضہ کرنے اور اس کی آبادی کو وہاں سے بے دخل کرنے کے حق میں ووٹ دینے کے ایک ہفتے بعد سامنے ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اسرائیل کے اس منصوبے کی مذمت کی ہے۔

حماس کے زیرانتظام شہر کی میونسپلٹی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے منصوبے کے اعلان کے کے بعد سے ہزاروں باشندے غزہ شہر کے جنوبی زیتون محلے سے نقل مکانی کر کے جا چکے ہیں جہاں کئی دنوں سے مسلسل اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک ’المناک‘ صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

اسرائیل غزہ شہر سے دس لاکھ افراد کو زبردستی بے دخل کر کے انھیں جنوب میں کیمپوں میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس نے اس بات کا صحیح ٹائم ٹیبل فراہم نہیں کیا ہے کہ اس کی افواج غزہ شہر میں کب داخل ہوں گی۔

Share This Article