کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے زاہد علی بلوچ کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ کا آج بارواں دن ہے۔ زاہد علی بلوچ کو 17 جولائی 2025 کی شام 5 بج کر 30 منٹ پر کراچی میں سواری کا انتظار کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے اہلکار زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
اہلِ خانہ کے مطابق، 31 دن گزرنے کے باوجود زاہد علی بلوچ کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر زاہد پر کوئی الزام ہے تو آئین و قانون کے مطابق انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
زاہد کے والد کا کہنا ہے، "اگر میرے بیٹے نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کرو، یوں بے نشان مت کرو۔” ان کے الفاظ میں درد اور صبر کی ملی جلی کیفیت ہے، لیکن چہرے پر بیٹے کی واپسی کی امید ابھی زندہ ہے۔
کیمپ میں شریک دیگر لوگ بھی ایک ہی مطالبہ دہراتے ہیں کہ جبری گمشدگیاں ختم کی جائیں، اور ہر شخص کو آئین و قانون کے مطابق اپنے دفاع کا حق دیا جائے۔
احتجاجی کیمپ میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں، میڈیا، اعلیٰ عدلیہ اور انصاف پسند عوام سے اپیل کی کہ زاہد علی بلوچ کی فوری بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔
اہلِ خانہ نے واضح کیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک زاہد علی بلوچ کو بازیاب نہیں کرا لیا جاتا۔