سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے پاکستانی خفیہ اداروں کے کارندوں اور پولیس نے اغوا کر لیا جسکی تصدیق ان کے اہلیہ نے بھی کردی۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ مطیع اللہ جان کی گاڑی اسلام آباد کے سیکٹر جی 6 میں اسکول کے باہر کھڑی تھی اور اس میں ان کا ایک موبائل فون بھی پڑا تھا۔
سوشل میڈیا پر ایک صحافی نے مطیع اللہ جان کے اغوا کی سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کی تاہم پولیس نے اس کی تصدیق کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دوسری جانب برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کی اردو سروس کے ساتھ گفتگو میں بھی صحافی کی اہلیہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر کو لاپتہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مطیع اللہ جان نے انہیں صبح اسکول چھوڑا تھا جس کے بعد ان کی گاڑی مل گئی ہے اور گاڑی میں چابی بھی لگی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ مطیع اللہ جان کے خلاف ایک متنازع ٹوئٹ پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا از خود نوٹس زیر سماعت ہے جس کی سماعت رواں ہفتے ہوگی۔
قبل ازیں آج ہی کے روز صبح 11 بج کر 5 منٹ پر انہوں نے ایک صحافی کا انٹرویو ری ٹوئٹ کیا تھا اور اس کے ساتھ لکھا تھا کہ ’یہ ان لوگوں کی توجہ کے لیے ہے جو پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے مصنوعی ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں بیٹھتے ہیں اور جو سمجھتے ہیں کہ تنقید انسان کے ناقابل تسخیر وقار کی خلاف ورزی سے بھی بڑا جرم ہے‘۔
جیسے ہی اس خبر نے صحافیوں اور عالمی تنظیموں کی توجہ حاصل کی اسی دوران مطیع اللہ جان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے 3 بج کر 17 منٹ پر ٹوئٹ کی گئی جو ممکنہ طور پر ان کے بیٹے نے کی۔
ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’میرے والد کو دارالحکومت (اسلام آباد) کے وسط سے اغوا کیا گیا، میں انہیں تلاش کرنے کا اور ان کی گمشدگی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں, خدا ان کی حفاظت کرے‘۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر‘صحافی کی موجودگی سے متعلق معلومات حاصل کی جائیں‘۔
ایک ٹوئٹ میں تنظیم کا کہنا تھا کہ اسے صحافی کی خیریت اور حالت کے حوالے سے سخت تشویش ہے، جنہیں ایمنسٹی کے مطابق ’صحافت کی وجہ سے جسمانی حملے اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا‘۔
صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی پی جے) نے کہا کہ انہیں ’مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا ہر سخت تشویش ہے، انہیں فوری طور پر رہا اور ان کے اہل خانہ کے پاس پہنچانا چاہیئے‘۔
فریڈم نیٹ ورک نے مطیع اللہ جان کی گمشدگی اطلاعات پر تحفظات کا اظہار کیا۔
صحافی کی گمشدگی پر ڈان اخبار کی سابق ایڈیٹر عباس ناصر نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ’اس فاشسٹ دور میں ایسی مایوس کن حرکتیں زیادہ دیر نہیں چلیں گی۔
صحافی عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ’کیا بات ہے، نامعلوم افراد نے مطیع اللہ جان کو آبپارہ سے اٹھا لیا، واقعی نامعلوم؟‘
رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے مطیع اللہ جان کی گمشدگی کی ’سختی سے مذمت‘ کی اور ان کی ’بحفاظت بازیابی‘ کا مطالبہ کیا۔
سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ ’اسلام آباد میں پارلیمنت، سپریم کورٹ اور میڈیا کی ناک کے نیچے سے صحافی کی جبری گمشدگی ایک سنجیدہ معاملہ ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمینٹرینز، ججز اور صحافی صرف ’شاہراہ دستور پر احتجاج کرسکتے ہیں اور کچھ نہیں‘
دریں اثنا اینکر پرسن نجم سیٹھی نے چینج ڈاٹ آرگ پر مطیع اللہ جان کی ’فوری رہائی‘ کے لیے ایک پٹیشن کا آغاز کیا۔
ان کی گمشدگی کی اطلاعات دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور ٹوئٹر پر ان کے حوالے سے ٹاپ ٹرینڈ بن گئے جس میں ان کی واپسی اور ’رہائی‘ کا مطالبہ کیا گیا۔