صحافی مطیع اللہ جان کی فورسز ہاتھوں اغوا پر شدید ردعے عمل

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے پاکستانی خفیہ اداروں کے کارندوں اور پولیس نے اغوا کر لیا جسکی تصدیق ان کے اہلیہ نے بھی کردی۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ مطیع اللہ جان کی گاڑی اسلام آباد کے سیکٹر جی 6 میں اسکول کے باہر کھڑی تھی اور اس میں ان کا ایک موبائل فون بھی پڑا تھا۔

سوشل میڈیا پر ایک صحافی نے مطیع اللہ جان کے اغوا کی سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کی تاہم پولیس نے اس کی تصدیق کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

https://twitter.com/i/status/1285530153272082437

دوسری جانب برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کی اردو سروس کے ساتھ گفتگو میں بھی صحافی کی اہلیہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر کو لاپتہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مطیع اللہ جان نے انہیں صبح اسکول چھوڑا تھا جس کے بعد ان کی گاڑی مل گئی ہے اور گاڑی میں چابی بھی لگی ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ مطیع اللہ جان کے خلاف ایک متنازع ٹوئٹ پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا از خود نوٹس زیر سماعت ہے جس کی سماعت رواں ہفتے ہوگی۔

قبل ازیں آج ہی کے روز صبح 11 بج کر 5 منٹ پر انہوں نے ایک صحافی کا انٹرویو ری ٹوئٹ کیا تھا اور اس کے ساتھ لکھا تھا کہ ’یہ ان لوگوں کی توجہ کے لیے ہے جو پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے مصنوعی ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں بیٹھتے ہیں اور جو سمجھتے ہیں کہ تنقید انسان کے ناقابل تسخیر وقار کی خلاف ورزی سے بھی بڑا جرم ہے‘۔

جیسے ہی اس خبر نے صحافیوں اور عالمی تنظیموں کی توجہ حاصل کی اسی دوران مطیع اللہ جان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے 3 بج کر 17 منٹ پر ٹوئٹ کی گئی جو ممکنہ طور پر ان کے بیٹے نے کی۔

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’میرے والد کو دارالحکومت (اسلام آباد) کے وسط سے اغوا کیا گیا، میں انہیں تلاش کرنے کا اور ان کی گمشدگی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں, خدا ان کی حفاظت کرے‘۔

https://twitter.com/Matiullahjan919/status/1285519178645024769

دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر‘صحافی کی موجودگی سے متعلق معلومات حاصل کی جائیں‘۔

ایک ٹوئٹ میں تنظیم کا کہنا تھا کہ اسے صحافی کی خیریت اور حالت کے حوالے سے سخت تشویش ہے، جنہیں ایمنسٹی کے مطابق ’صحافت کی وجہ سے جسمانی حملے اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا‘۔

https://twitter.com/amnestysasia/status/1285510322862780416

صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی پی جے) نے کہا کہ انہیں ’مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا ہر سخت تشویش ہے، انہیں فوری طور پر رہا اور ان کے اہل خانہ کے پاس پہنچانا چاہیئے‘۔

https://twitter.com/CPJAsia/status/1285523573763969036

فریڈم نیٹ ورک نے مطیع اللہ جان کی گمشدگی اطلاعات پر تحفظات کا اظہار کیا۔

صحافی کی گمشدگی پر ڈان اخبار کی سابق ایڈیٹر عباس ناصر نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ’اس فاشسٹ دور میں ایسی مایوس کن حرکتیں زیادہ دیر نہیں چلیں گی۔

صحافی عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ’کیا بات ہے، نامعلوم افراد نے مطیع اللہ جان کو آبپارہ سے اٹھا لیا، واقعی نامعلوم؟‘

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے مطیع اللہ جان کی گمشدگی کی ’سختی سے مذمت‘ کی اور ان کی ’بحفاظت بازیابی‘ کا مطالبہ کیا۔

سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ ’اسلام آباد میں پارلیمنت، سپریم کورٹ اور میڈیا کی ناک کے نیچے سے صحافی کی جبری گمشدگی ایک سنجیدہ معاملہ ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمینٹرینز، ججز اور صحافی صرف ’شاہراہ دستور پر احتجاج کرسکتے ہیں اور کچھ نہیں‘

دریں اثنا اینکر پرسن نجم سیٹھی نے چینج ڈاٹ آرگ پر مطیع اللہ جان کی ’فوری رہائی‘ کے لیے ایک پٹیشن کا آغاز کیا۔

ان کی گمشدگی کی اطلاعات دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور ٹوئٹر پر ان کے حوالے سے ٹاپ ٹرینڈ بن گئے جس میں ان کی واپسی اور ’رہائی‘ کا مطالبہ کیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment