ایک سو سے زائد امدادی تنظیموں نے اسرائیل سے امداد کا بطور ہتھیار استعمال بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
ایسے وقت میں جب غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کا بحران انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے، سو سے زائد امدادی تنظیموں نے ایک مشترکہ خط پر دستخط کیے ہیں جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں ’امداد کا بطورِ ہتھیار استعمال‘ بند کرے۔
امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا جا رہا ہے کہ جب تک کہ وہ سخت اسرائیلی ضوابط کی تعمیل نہیں کرتے، انھیں امداد پہنچانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی گروپ اسرائیلی ریاست کی ’قانونی‘ حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے یا اپنی تنظیم کے لیے کام کرنے والے فلسطینی عملے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کرتے تو ان پر پابندی لگنے کا خطرہ ہے۔
اسرائیل امداد کی ترسیل اور تقسیم پر پابندیوں کی تردید کرتا آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مارچ میں متعارف کروائے گئے قواعد کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ امدادی سرگرمیاں اسرائیل کے ’قومی مفادات‘ سے ہم آہنگ ہوں۔
مشترکہ خط کے مطابق، بڑی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں دو مارچ سے زندگی بچانے والے سامان کا ایک ٹرک بھی غزہ نہیں پہنچا پائی ہیں۔
امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے نئے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ میں زندگی بچانے کی اشیا پہنچانے کی درجنوں درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔ صرف جولائی میں ہی 60 سے زیادہ درخواستیں مسترد کی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی گروپوں کی جانب سے امدادی سامان فراہم نہ کر پانے کی وجہ سے غزہ کے ’ہسپتالوں میں بنیادی سامان ختم ہو گیا ہے جب کہ بچے، معذور افراد، اور بوڑھے بھوک اور قابل علاج بیماریوں سے مر رہے ہیں۔‘
امریکی امدادی تنظیم انیرا کے سی ای او شان کیرول کا کہنا ہے کہ غزہ سے محض چند کلو میٹر دور انیرا کے پاس غزہ پہنچانے کے لیے 70 لاکھ ڈالرز سے زیادہ مالیت کا جان بچانے کا سامان ترسیل کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سامان میں 744 ٹن چاول بھی شامل ہے جو 60 لاکھ افراد کو ایک وقت کا کھانا کھلانے کے لیے کافی ہے۔