کراچی کے لیاری کے علاقے کلری سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ لاپتہ طالبعلم زاہد علی بلوچ کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر قائم احتجاجی کیمپ بدھ کو نویں روز میں داخل ہوگیا۔
کیمپ میں شریک مظاہرین نے "بازیاب کرو، بازیاب کرو” کے نعرے لگائے اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
لاپتہ نوجوان کے والد عبدالحمید نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میرے بیٹے کو زبردستی لاپتا ہوئے 28 روز گزر چکے ہیں، مگر آج تک ہمیں علم نہیں کہ وہ کہاں ہے، کس حالت میں ہے اور کس جرم کی سزا بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر زاہد علی پر کوئی الزام ہے تو آئین اور قانون کے مطابق انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں کسی بھی خاندان کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہیں اور یہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ زاہد علی بلوچ کو 17 جولائی 2025 کو مبینہ طور پر سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا، جس کے بعد سے ان کے اہل خانہ مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔