جبری گمشدگیاں و ماورائے عدالت گرفتاریاں : اسلام آباد و کراچی میں احتجاجی دھرنے جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جبری گمشدگیوں اور ماورائے گرفتاریوں کے خلاف پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد اور کراچی میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔

آج مسلسل 27 واں دن ہے جب اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں کی رہائی اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔

شدید گرمی میں بوڑھے خواتین، چھوٹے بچے اور طالب علم بغیر کسی پناہ کے سڑک کے کنارے بیٹھے رہتے ہیں۔ حکام نے انہیں ابھی تک کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی ہے، اور اسلام آباد پریس کلب تک جانے والی سڑک جو متاثرین کے بولنے کی جگہ ہے کو سیل کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے بجائے، ریاست سڑکوں پر رکاوٹیں، نگرانی اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود یہ خاندان ثابت قدم رہتے ہیں، جب تک انصاف نہیں مل جاتا وہاں سے جانے سے انکار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب لیاری کے علاقے کلری سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ لاپتہ طالبعلم زاہد علی بلوچ کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے۔

زاہد کے لواحقین اور دیگر عزیز و اقارب روزانہ کی بنیاد پر کلب کے باہر احتجاج میں شریک ہیں۔

زاہد کے والد عبد الحمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کا بیٹا دن رات محنت مزدوری کر کے گھر کا خرچ پورا کرتا تھا اور والدین کے علاج معالجے کی ذمہ داری بھی اس کے نازک کندھوں پر تھی۔ انہوں نے کہا، "اس شدید گرمی میں ہم اس امید پر بیٹھے ہیں کہ شاید ریاستی اداروں کو ہمارے حال پر رحم آئے اور ہمارا بیٹا بازیاب کردیا جائے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر شہری کو آزادانہ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے لیکن ریاست نے ہم سے یہ حق چھین لیا ہے۔ عبد الحمید بلوچ نے انسانی حقوق کی تنظیموں، اعلیٰ عدلیہ، میڈیا اور تمام انسان دوست حلقوں سے اپیل کی کہ وہ زاہد علی بلوچ کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔واضح رہے کہ زاہد علی بلوچ کو 17 جولائی 2025 کو مبینہ طور پر سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا، جس کے بعد سے ان کے اہل خانہ سراپا احتجاج ہیں۔

Share This Article