نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ثنا بلوچ کو پاکستانی فورسز نے ملتان ایئرپورٹ سے جبری طور پر لاپتہ کردیا جبکہ بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ( بی ایس ایف) کے شال زون کے جبری لاپتہ جنرل سیکرٹری گہرام اسحاق بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے مطابق، پارٹی کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن ثناء بلوچ کو آج ملتان ایئرپورٹ سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔
ثناء بلوچ جدہ جانے والی سعودی ایئرلائنز کی پرواز SV 801 کے ذریعے عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانہ ہو رہے تھے کہ ایف آئی اے اہلکاروں نے انہیں ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا۔
پارٹی ترجمان کے مطابق، ایف آئی اے نے ثناء بلوچ کو کئی گھنٹے نام نہاد تفتیش کے بہانے روکے رکھا اور بعد ازاں انہیں خفیہ اداروں کے حوالے کر دیا گیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نے اس اقدام کو غیر انسانی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ثناء بلوچ کو فی الفور اور بحفاظت رہا کیا جائے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر رہائی میں تاخیر کی گئی تو این ڈی پی قومی و بین الاقوامی سطح پر بھرپور سیاسی اور قانونی مزاحمت شروع کرے گی۔
دوسری جانب بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ (بی ایس ایف) کے مرکزی ترجمان کے مطابق، شال زون کے جنرل سیکریٹری گہرام اسحاق، جو پنجگور کے رہائشی اور ایف سی کے طالبعلم ہیں، تین ماہ سے زائد جبری گمشدگی کا شکار رہنے کے بعد 7 اگست 2025 کی رات شال سے باحفاظت بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ گہرام اسحاق کو 24 اپریل 2025 کو شال کے سول ہسپتال سے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل، 23 اپریل کو بی ایس ایف کے مرکزی چیئرمین جاوید بلوچ، جو آواران کے رہائشی اور شعبۂ قانون کے طالبعلم ہیں، کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا۔
اسی طرح، 25 جولائی 2025 کو بی ایس ایف کراچی یونیورسٹی یونٹ کے انفارمیشن سیکریٹری مسلم داد کو کراچی یونیورسٹی سے حراست میں لیا گیا، جو یکم اگست کو باحفاظت بازیاب ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں "اُٹھاؤ، مارو اور پھینکو” کی پالیسی برسوں سے جاری ہے، لیکن گزشتہ چھ ماہ میں اس میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر طلبہ، سیاسی کارکنان اور بلوچ نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دینا معمول بنتا جا رہا ہے۔
ترجمان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے مرکزی چیئرمین جاوید بلوچ تاحال لاپتہ ہیں اور ان کے لواحقین کو بھی اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں کہ انہیں کس جرم کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔
بی ایس ایف نے حکومت، عدلیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ جاوید بلوچ سمیت تمام لاپتہ بلوچ اسیران کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین و قانون کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے۔