جبری لاپتہ ڈاکٹر داد شاہ کی عدم بازیابی ، اہل خانہ کا 12 اگست کوسی پیک شاہراہ کی بندش کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب کے نواحی گاؤں تجابان سنگ آباد کے رہائشی اور جوسک بی ایچ یو ہسپتال میں تعینات میڈیکل ٹیکنیشن ڈاکٹر داد شاہ ولد واحد بخش کو مبینہ طور پر 4 اگست کو سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ اہل خانہ نے ان کی بازیابی کے لیے 12 اگست کو سی پیک شاہراہ ایم-8 پر دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہل خانہ نے بتایا کہ ڈاکٹر داد شاہ 2017 سے جوسک بی ایچ یو میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور پاکستان پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کیچ کے رکن ہیں۔ ان کے مطابق 4 اگست کی دوپہر تقریباً 2 بجکر 15 منٹ پر ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد ایک ساتھی کے ہمراہ گھر واپس آتے وقت کیچ کور پل پر سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا۔

اہل خانہ نے کہا کہ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود نہ تو ڈاکٹر داد شاہ کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی اہل خانہ یا محکمہ صحت کو ان کی حراست کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کی جان و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، کیونکہ جبری گمشدگی بذاتِ خود قانون کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر 11 اگست تک ڈاکٹر داد شاہ کو منظرِ عام پر لا کر رہا نہ کیا گیا تو 12 اگست بروز منگل تجابان کے مقام پر ایم-8 شاہراہ بند کر کے دھرنا دیا جائے گا۔ اہل خانہ نے سیاسی و سماجی تنظیموں، وکلاء، طلبہ اور عوام سے اپیل کی کہ انسانی حقوق کے اس مسئلے پر ان کا ساتھ دیں۔

مزید برآں، انہوں نے تربت تا کوئٹہ سفر کرنے والے ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو مطلع کیا کہ 12 اگست کو ایم-8 شاہراہ احتجاجاً بند رہے گی، اس لیے عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے متبادل راستوں کا استعمال کیا جائے۔

Share This Article