حماس نے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر کا کنٹرول حاصل کرنے اور اس کے مکینوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے منصوبے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ دس لاکھ فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرم ہے۔
اپنے ایک پیغام میں حماس نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ ان کی حکومت جنگ کو وسعت دے کر اسرائیلی مغویوں کو نظر اندار کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام اس کی جانب سے حال ہی میں سیز فائر کے لیے کیے جانے والے مذاکرات کو چھوڑنے کی وضاحت کرتا ہے جس میں حماس کے بقول فریقین مغویوں کے تبادلے اور کسی معاہدے کےقریب پہنچ چکے تھے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس نے مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات میں لچک اور مثبت انداز اپنایا تھا اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کے لیے جامع ڈیل کے لیے راستہ کھلا رکھا تھا۔
حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا منصوبہ آسان نہیں ہو گا وہ جواب میں شدید مزاحمت کا سامنا کرے گا۔
حماس نے امریکہ کو بھی اس تمام صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ وہ اسرائیل کو فوجی اور سیاسی مدد فراہم کر رہا ہے۔
حماس نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی منصوبے کو روکیں۔