غزہ پر قبضے کا اسرائیل کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، حماس

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

حماس نے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر کا کنٹرول حاصل کرنے اور اس کے مکینوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے منصوبے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ دس لاکھ فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرم ہے۔

اپنے ایک پیغام میں حماس نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ ان کی حکومت جنگ کو وسعت دے کر اسرائیلی مغویوں کو نظر اندار کرتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام اس کی جانب سے حال ہی میں سیز فائر کے لیے کیے جانے والے مذاکرات کو چھوڑنے کی وضاحت کرتا ہے جس میں حماس کے بقول فریقین مغویوں کے تبادلے اور کسی معاہدے کےقریب پہنچ چکے تھے۔

حماس کا کہنا ہے کہ اس نے مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات میں لچک اور مثبت انداز اپنایا تھا اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کے لیے جامع ڈیل کے لیے راستہ کھلا رکھا تھا۔

حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا منصوبہ آسان نہیں ہو گا وہ جواب میں شدید مزاحمت کا سامنا کرے گا۔

حماس نے امریکہ کو بھی اس تمام صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ وہ اسرائیل کو فوجی اور سیاسی مدد فراہم کر رہا ہے۔

حماس نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی عدالتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی منصوبے کو روکیں۔

Share This Article