اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے نیتن یاہو کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے منصوبے کی منظوری کا اعلان یروشلم میں اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں غزہ شہر پر قبضے کے منظور شدہ منصوبوں اور جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ اصولوں کی تفصیل دی گئی ہے، جسے سکیورٹی کابینہ نے اکثریتی ووٹ سے منظور کیا ہے۔
ان نکات کے تحت اسرائیلی فوج جنگی علاقوں سے باہر شہری آبادی کو انسانی امداد فراہم کرتے ہوئے غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کرے گی۔
بی بی سی فارسی کے مطابق حماس نے نیتن یاہو کے منصوبوں پر رد عمل میں کہا ہے کہ نیتن یاہو اپنے مفادات کی تکمیل کی کوشش میں وہ یرغمالیوں کو قربان کر دیں گے۔
دوسری جانب اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کا غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ دراصل ایک نئی جنگ اور مزید یرغمالیوں کی موت کا منصوبہ ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی وجہ سے اربوں شیکلز ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑیں گے۔‘
یاد رہے کہ اقوام متحدہ اس سے قبل خبردار کر چکا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں توسیع سے فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی یرغمالیوں کے لیے ’تباہ کن نتائج‘ کا خطرہ ہے۔
حماس نے ایک بیان میں یہ کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اقدامات ’مذاکرات کی سمت میں واضح تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں اور بات چیت کے آخری دور کو ترک کرنے کے پیچھے ان کے اصل مقاصد کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔