انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے اترکاشی ضلع میں کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) سے پانی کی سطح اچانک بڑھ گئی جس سے دھرالی گاؤں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
اترکاشی کے ضلعی مجسٹریٹ پرشانت آریہ نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق چار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور کچھ املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
کلاؤڈ برسٹ سے مراد انتہائی، قلیل مدت میں ایک چھوٹے سے علاقے میں اچانک بارش کا ہونا ہے‘ جو اکثر اچانک سیلاب کا باعث بن جاتی ہے۔
کلاؤڈ برسٹ انڈین وقت کے مطابق دوپہر ڈیڑھ بجے ہوا جب تیز بارش کے باعث کھیر گنگا ندی میں طغیانی کے باعث گدلے سیلابی پانی نے سڑکوں اور عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ’حادثے میں 40 سے 50 مکانات بہہ گئے ہیں اور 50 سے زیادہ افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔‘
دھرالی سے متعدد ایسی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں جس میں سیلابی ریلہ ہوٹلز، تفریحی مقامات اور مکانات کو اپنے ساتھ بہا لے جا رہا ہے۔
ادھر دھرالی میں مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور جان و مال کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔
ایک عینی شاہد نے گدلے پانی کی زد میں آنے والے ہوٹلز اور مکانات کی ویڈیو بنائی جس میں ساتھ وہ یہ بھی کہتا سنائی دے رہا ہے کہ ’بھاگو، بھاگو‘ لیکن پانی اتنا تیزی سے آگے بڑھتا ہے کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے کی زد میں آنے والے ہوٹلز اور مکانات میں متعدد افراد پھنسے ہیں جنھیں نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔