یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے متعدد ممالک کے جنگجو بشمول پاکستانی اور چینی جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔
سوموار کے روز ولادیمیر زیلنسکی کا اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہنا تھا کہ انھوں نے وووچانسک کے علاقے میں اگلے محاذوں کا دورہ کیا اور وہاں فوجیوں سے ملاقات کی۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ اس دوران ان کی کمانڈرز سے اگلے محاذوں کی صورتحال اور وووچانسک کے دفاع کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ڈرونز کی سپلائی اور تعیناتی، بھرتی، اور بریگیڈز کے لیے براہ راست فنڈنگ کے مسائل پر بھی بات چیت ہوئی۔
زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ انھیں اس سیکٹر میں تعینات یوکرینی فوجیوں نے بتایا ہے کہ روس کی جانب سے پاکستان، چین، ازبکستان، تاجکستان اور متعدد افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو اس لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔
زیلنسکی کا کہنا تھا، ’ہم اس کا جواب دیں گے۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد ممالک کے شہریوں کے روس کی جانب سے لڑائی میں حصہ لینے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
مئی 2024 میں شائع ہونے والی بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، روس ممکنہ طور پر اپنی فوج میں لڑنے کے لیے کیوبا کے شہریوں کو بھرتی کر رہا تھا۔
اس سے قبل فروری 2024 میں انڈیا میں کچھ خاندانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ متعدد نوجوانوں کو ایجنٹوں نے ’ہیلپر‘ کی نوکری کے ’دھوکے‘ سے یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں روسی افواج کے ہمراہ لڑنے کے لیے بھیج دیا ہے۔
میبنہ طور پر 20 اور 32 سال کی عمر کے درمیان کے ان افراد کو روسی ملٹری میں ’سکیورٹی ہیلپر‘ کے طور پر نوکری دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن روس پہنچنے پر مبینہ طور پر انھیں جنگی ’تربیت‘ کے لیے میدان جنگ میں بھیجا گیا اور چند ایک کو محاذ پر بھی تعینات کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ روس نے مارچ 2024 میں ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت اگر ریاست میں قید ملزمان جنگ میں جانے کی حامی بھرتے ہیں تو پھر اُن کے خلاف مقدمات پر کارروائی روک دی جائے گی اور ان کے مقدمات جنگ کے اختتام پر ختم کر دیے جائیں گے۔ اس قانون کا مقصد فوجیوں کی کمی پورا کرنا ہے۔