امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے چند گھنٹے غزہ میں خوراک کی تقسیم کے متنازع مقامات پر گزارے جھنیں امریکہ اور اسرائیل کی حمایت سے مقامی فلسطینیوں کے لیے چلایا جا رہا ہے۔
تاہم دوسری جانب غزہ میں جمعے کو مزید دس ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جمعہ کے روز غزہ کا دورہ کیا، وہ جنگ کے آغاز کے بعد غزہ کا دورہ کرنے والے پہلے اعلیٰ سطحی امریکی اہلکار بن گئے۔
وٹکوف نے رفح میں امریکی حمایت یافتہ "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن” (جی ایچ ایف) کے تحت جاری امدادی منصوبے کا معائنہ کیا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غزہ میں بڑھتے ہوئے ہلاکت خیز حالات کا ایک سبب بھی بن رہا ہے۔
امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ ان کے اس دورے کا مقصد جنگ سے تباہ حال غزہ کے لیے ایک نیا امدادی منصوبہ تیار کرنا ہے۔
ان کے دورے کے چند گھنٹوں بعد،فلسطین کے طبی ذرائع نے اطلاع دی کہ اسرائیل کی افواج نے رفح میں جی ایچ ایف کے ایک مرکز کے قریب تین فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
اسرائیلی فوج نے واقعے کی تحقیقات کرنے ہونے کی تصدیق کی ہے اور دعویٰ کیا کہ فوج نے ’’مشکوک افراد کے ایک گروہ‘‘ کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر ہوائی فائرنگ کی، جو امدادی مقام سے کئی سو میٹر دور تھے۔
غزہ کے متاثرین امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کے دورے پر تنقید کر رہے ہیں ایک فلسطینی شہری نے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالوف کو بتایا کہ سٹیو وٹکوف کا دورہ میڈیا کو دکھانے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ انسانیت کی خدمت کا مشن نہیں ہے۔
یاد رہے کہ سٹیو وٹکوف ایک ایسے وقت میں غزہ کا دورہ کر رہے ہیں جب امدادی ایجنسیاں غزہ میں قحط کا الرٹ جاری کر رہی ہیں۔ بہت سے لوگ بھوک اور خوراک کی کمی سے مر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق 1373 فلسطینی مئی کے آخر سے اب تک خوراک کی تلاش کرتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کی ہلاکتیں خوراک کی تقسیم کے مقامات کے قریب ہوئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، مئی میں جی ایچ ایف کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو اسرائیلی افواج نے گولی مار کر ہلاک کیا۔
اقوام متحدہ نے جی ایچ ایف کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ یہ تنظیم امداد کی تقسیم ایسے طریقے سے کرتی ہے جو نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں، جس کے باعث علاقے میں غذائی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
ادھر جی ایچ ایف کا دعویٰ ہے کہ ان کے تقسیم کاری کے مراکز پر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، اور وہ اقوام متحدہ سے بہتر انداز میں امداد فراہم کر رہے ہیں۔
وٹکوف کے ہمراہ غزہ کا دورہ کرنے والے امریکہ کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکبی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک تصویر شیئر کی جس میں بھوک کے شکار فلسطینی شہری خاردار تاروں کے پیچھے نظر آ رہے ہیں، اور پس منظر میں ایک بڑا امریکی پرچم لگا جی ایچ ایف کا پوسٹر موجود ہے، جس پر لکھا تھا، "10 کروڑ کھانے فراہم کیے گئے”۔