تربت: 8 سالہ بچے پر دہشتگردی کا مقدمہ ، عدالت میں پیشی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں انسداد دہشتگردی عدالت نے گلزار دوست بلوچ کے کیس میں شریک ملزم کمسن سہیب خالد کے ضمانت قبول کیئے۔

سہیب خالد پر الزام ہے کہ انہوں نے گلزار دوست کی مبینہ ریاست مخالف تقریر کو ٹک ٹاک پر شیئر کیا، جس سے "اشتعال پھیلنے” کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

سہیب خالد کی کم عمری کے باوجود ان پر انسداد دہشتگردی جیسے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں، وکلاء اور سماجی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک کمسن بچے کو محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر عدالتوں میں گھسیٹنا نہ صرف قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کی صریح پامالی بھی ہے۔

یاد رہے کہ گلزار دوست بلوچ جو کہ ایک متحرک انسانی حقوق کے کارکن اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والوں میں شامل ہیں، کو ایک ماہ قبل تربت میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران "اشتعال انگیز تقریر” کے الزام میں سی ٹی ڈی نے گرفتار کیا تھا، اور وہ اس وقت تربت سینٹرل جیل میں قید ہیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں کا مؤقف ہے کہ گلزار دوست اور ان جیسے کارکنان کو ریاستی جبر کے تحت جھوٹے مقدمات میں پھنسانا آئین و قانون کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے، اور سہیب خالد جیسے بچوں کو اس جبر کا نشانہ بنانا ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

مقامی وکلاء اور انسانی حقوق کے اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ سہیب خالد جیسے کمسن افراد کو سیاسی انتقام کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے اور ان کے تعلیمی و نفسیاتی تحفظ کو ترجیح دی جائے۔

Share This Article