پنجگور میں سینکڑوں لیویز اہلکاروں کا جرگہ، پولیس میں ضم ہونے کا فیصلہ مسترد

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ضلع پنجگور میں بھی لیویز فورس نے ضلعی ہیڈکوارٹر میں جرگہ کرکے پولیس میں ضم ہونے کے فیصلے کو مسترد کردیا ۔

جرگہ میں ڈسٹرکٹ لیویزفورس کے 555 جوانوں نے شرکت کی جرگہ زیر نگرانی رسالدار میجر صابر علی گچکی دفعدار سعید احمد نائب رسالدار محمد طیب نائب رسالدار عبدالغفار نائب رسالدار محمد اسماعیل نائب رسالدار امام بخش منعقد ہوا دفعدار سعید احمد نے جرگہ کے فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آفسران نے عجلت اور جلد بازی میں لیویز فورس کے متعلق جو فیصلہ صادر کیا ہے وہ کسی بھی قیمت پر ہمارے جوانوں کو قبول نہیں ہے حکومتی فیصلے کے خلاف ہمارا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے اور معزز عدالت کی طرف سے پولیس میں انضمام کے خلاف اسٹے آرڈر بھی آیا ہے اسکے باوجود لیویز فورس کی قربانیوں کو نظرانداز کرکے اسے دیوار سے لگانے کی کوششیں ہورہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ لیویز فورس میں بلوچستان کے 28 ہزار افراد ملازمت کررہے ہیں جن پر پورے صوبے کے عوام کو اعتماد ہے اور لیویز فورس نے بلوچستان کے اعلی روایات کی ہمیشہ پاسداری کی ہے اور اپنے فرائض منصبی نیک نیتی اور ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں لیویز فورس کے خلاف جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے جو زبردستی انضمام کا فیصلہ مسلط کیا تھا بلوچستان کی سابقہ حکومت اور اسمبلی نے متفقہ طورپر اس کے خلاف قرارداد منظور کرکے لیویز فورس کو انکی اعلی کارکردگی اور خدمات پر دوبارہ بحال کیا اب دوبارہ لیویز فورس کو اسی ڈگر پر لیکر لےجانے کی کوشش ہورہا ہے اور معزز عدالت کے فیصلے کو بھی خاطر میں نہیں لایا جارہا ہے جو قابل افسوس اور عدالتی فیصلے کی کلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم معزز عدالت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور ہمارا کیس عدالت میں چل رہا ہے کیس ہم سب نے متفقہ طور پر دائر کیا ہے تاکہ لیویز فورس کی شناخت اور ساکھ برقرار رہے جب بلوچستان کے عوام کو لیویز فورس سے کوئی شکایت اور مسلہ نہیں ہے پھر وہ کیا مجبوریاں ہیں کہ ایک اچھے بلے فورس کو ڈی مورالزائز کرکے اس پر زبردستی فیصلے مسلط کیئے جائیں پولیس میں ضم ہونے کے لیے ہمارے جوان بالکل تیار نہیں ہیں محدود وسائل کے ہمراہ لیویز فورس نے بلوچستان کے دشوار گزار علاقوں میں امن وامان کی بحالی کے لیے جو خدمات اور قربانی دی ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت لیویز فورس کا مورال بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کرے ناکہ عوام میں مقبول ایک فورس کو جاکر کسی دوسرے ادارے کے ساتھ ضم کرے ۔

انہوں نے ممبر بلوچستان اسمبلی اسداللہ بلوچ رکن بلوچستان اسمبلی رحمت صالح اور ممبر قومی اسمبلی پھلین بلوچ سے اپیل کی کہ وہ لیویز فورس کے متعلق حکومتی فیصلے پر آواز اٹھائیں اور جو زیادتی لیویز فورس کے ساتھ کی جارہی ہے اسکی مزمت کریں ۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ لیویز فورس کو اسکی اصل حالت میں برقرار رکھنے اور جدید سہولتوں کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

Share This Article