115 امدادی اداروں نے ایک دستخط شدہ انتباہی بیان جاری کیا ہے جس میں اس خدشے اظہار کیا گیا ہے کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر غدائی قلت اور بھوک پھیل رہی ہے۔
اس بیان کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
اسرائیلی حکومت کے محاصرے کی وجہ سے غزہ کے لوگ بھوک کا شکار ہیں۔ امدادی اہلکار اپنے خاندانوں کو خوراک پہنچانے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ غزہ میں مکمل محاصرے سے افراتفری، بھوک اور موت نے جنم لیا ہے۔
امدادی سامان کی ترسیل مکمل طور پر بند ہے، امدادی کارکن بھوک سے مر رہے ہیں۔
غزہ میں موجود گوداموں میں کئی ٹن خوراک، پانی اور ادویات موجود ہیں لیکن انھیں کسی نے چھوا تک نہیں کیونکہ امدادی اداروں کی ان تک رسائی کو روکا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کا امدادی نظام ناکام نہیں ہوا لیکن اسے کام کرنے سے روکا گیا ہے۔
متاثرین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں خاص طور پر بچے اور بزرگ۔
امدادی اداروں نے اپنے بیان میں مکمل سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جتنی بھی پابندیاں اور رکاوٹیں ہیں انھیں ہٹایا جائے اور تمام زمینی راستوں کو دوبارہ کھولا جایے۔ فوج کے زیر کنٹرول تقسیم کے مراکزکو بند کیا جائے اور اس کے بجائے اقوام متحدہ کی قیادت میں انسانی امداد فراہم کی جائے۔