بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ ، ہوشاپ اور پنجگور سےپاکستانی فورسز اور اس کے زیر سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈ نے 2 کمسن بچوں سمیت 4 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
11 جولائی کی صبح 19 سالہ طالبعلم اشفاق ولد مشتاق کو اے ون سٹی فیز 2، کوئٹہ سے فورسز نے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
اشفاق کا تعلق بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے مشکے سے ہے، اور وہ ایک عام طالبعلم ہے۔
عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق اشفاق کو ایف سی اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکار اپنے ہمراہ لے گئے۔ حراست کے بعد اشفاق کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
دوسری جانب ہوشاب کے علاقے عرض محمد بازار میںآواز حسن ولد حسن نامی نوجوان کو صبح 9 بجے ان کے علاقے سے لاپتہ کر دیا گیاہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوشاب میں فورسز نے لشکر کشی کرتے ہوئے عرض محمد بازار میں تمام افراد کو گھروں سے نکال کر ایک جگہ جمع کیا اس دوران لوگوں کے موبائل فونز بھی چھین لیے گئے۔
دریں اثنا پنجگور کے علاقے چتکان غریب آباد سے گذشتہ روزمغرب کے وقت نامعلوم مسلح گاڑی سواروں نے 2 کم سن نوجوانوں کو اسلحہ کے زور پر اغواء کر لیا۔
دونوں کمسن نوجوانوں کی شناخت اجمل اور رحمان کے ناموں سے ہوگئی ہےجن کا اب سراغ نہیں ہے ۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نوجوانوں کو گاڑی سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔
تاحال ان کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔