بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے جھاؤ کوٹو میں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے لیے رسد لے جانے والی گاڑی کو ڈرائیور سمیت اپنے ہمراہ لے گئے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ گاڑی میں فوجی راشن کے ساتھ ساتھ بکریاں بھی موجود تھیں، جنہیں مسلح افراد نے اپنے قبضے میں لے لیا۔
واقعے کے بعد فورسز نے علاقے میں عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مسلح افراد کے بارے میں اطلاعات فراہم نہیں کیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جھاؤ کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کئی مہینوں سے سخت کرفیو نافذ ہے، جس کے تحت راشن اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے فوجی کیمپ سے اجازت لینا لازم قرار دیا گیا ہے۔ فوجی اجازت نامے کے بغیر راشن یا سامان خریدنے والے افراد کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسی علاقے میں فوجی راشن لے جانے والی گاڑی کو مسلح افراد نے روک کر راشن ضبط کیے تھے، جس کی ذمہ داری بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔ تاہم اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔