بلوچ مسلح قوتوں کی نمائندہ آوازوں کے خلاف کارروائی ریاست کا آئینی و قانونی اختیار ہے،سرفراز بگٹی

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے انسانی حقوق کے تنظیموں سے گذشتہ دنوں لورالائی میں بی ایل ایف کے” آپریشن بام "کے تحت پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 انٹیلی جنس اہلکاروں کی ہلاکت کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم اداروں کو بلوچستان کی درست تاریخ، زمینی حقائق اور موجودہ حالات کا غیر جانبدارانہ ادراک حاصل کرنا ہوگا ۔بلوچستان کے بارے میں جو بیانیہ جان بوجھ کر عالمی اور قومی سطح پر پھیلایا گیا ہے وہ اکثر حقائق کے برعکس ہوتا ہے جس کی اصلاح ضروری ہے تاکہ ایک متوازن اور سچ پر مبنی نقطہ نظر فروغ پا سکے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ان سے ملاقات کی۔

واضع رہے کہ ایچ آر سی پی وفد نے گذشتہ روز وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کاکیمپ کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملاقاتیں کیں۔

ملاقات میں بلوچستان میں امن و امان، انسانی حقوق کی صورتحال اور سماجی ترقی کے جاری اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرفراز بگٹی نے وفد کو بلوچستان کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا اور انسانی حقوق کے چیلنجز اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست قلات کا الحاق پاکستان سے زبردستی نہیں بلکہ باہمی رضامندی سے ہوا تھا لیکن کچھ عناصر دانستہ طور پر تاریخ کو مسخ کر کے ماضی کے زمینی حقائق سے نابلد افراد کو گمراہ کرتے ہیں ۔

سرفراز بگٹی نے گذشتہ روزلورالائی میں بی ایل ایف کے آپریشن بام کے تحت ناکہ بندی کے دوران ہلاک پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کی ہلاکت کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معصوم مسافروں کو شناخت کی بنیاد پر بسوں سے اتار کر قتل کرنا فتنہ الہندوستان کے مکروہ عزائم کی واضح عکاسی ہے ۔ان تنظیموں کی کارروائیاں کسی حقوق کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان کو کمزور کرنے اور توڑنے کی منظم کوشش کا حصہ ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کے سرپرست کھلے عام اپنے عزائم کا اظہار قومی و بین الاقوامی میڈیا اور فورمز پر بارہا کر چکے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ شناخت کی بنیاد پر قتل کیا جانا کن حقوق کی نمائندگی کرتا ہے ؟ کیا یہ وہ جنگ ہے جسے بعض حلقے آزادی یا خود ارادیت کا نام دے کر جواز دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟

سرفراز بگٹی نے کہا کہمسلح عناصر نہ صرف بات چیت سے انکاری ہیں بلکہ وہ پاکستان کو کیک کی طرح کاٹنے کی بات کرتے ہیں یہ رویہ کسی بھی مہذب معاشرے یا ریاست کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا ۔

کٹھ پتلی وزیر اعلی نے کہا کہ ریاست ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کی آئینی و قانونی طور پر ذمہ دار ہے اور اس آئینی ذمہ داری کو ہر صورت نبھایا جائے گا۔

انہوں نے لاپتہ افراد (مسنگ پرسنز)مسئلے کوجسٹیفائی کرتے ہوئے کہاکہ لاپتہ افراد کا مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ دیگر صوبوں اور دنیا کے کئی ممالک میں بھی یہ چیلنج موجود ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں یہ رواج فروغ پاچکا ہے کہ ہر الزام بغیر کسی مصدقہ ثبوت کے اداروں پر دھر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن ایک ڈائیسی سبجیکٹ ہے ،پہلی بات تو یہ ہے کہ اس بات کا تعین کون کرے گا کہ کسی بھی فرد کو کس نے اٹھایا ہے یا پھر وہ اپنی مرضی سے کہیں چھپ گیا ہے ہمارے پاس ایسے مصدقہ ثبوت ہیں کہ بہت سے لوگوں کو دانستہ لاپتہ کہا گیا اور بعد میں وہ عسکریت پسندی کی سنگین وارداتوں میں ملوث پائے گئے تاہم اس مسئلے سے قانونی طور پر نمٹنے کیلئے بلوچستان میں جامع قانون سازی کی جا چکی ہے ۔

سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنے کا ضامن ہے ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر زی شعور فرد کو صرف مخصوص بیانیے کو دیکھنے کے بجائے معصوم پنجابیوں کے قتل اور عسکریت پسندی کی ہر کارروائی کی بھی برملا مذمت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں اور ان کی نمائندہ آوازوں کے خلاف کارروائی ریاست کا آئینی و قانونی اختیار ہے اور حکومت بلوچستان اس اختیار کو پوری قوت سے بروئے کار لائے گی تاکہ بلوچستان میں امن و ترقی کا سفر متاثر نہ ہو۔

Share This Article