اسرائیل و حماس مابین جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی پیشرفت کے ختم ہوگیا۔

مذاکراتی عمل سے آگاہ ایک فلسطینی عہدیدار کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات کا تازہ ترین دور بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگیا ہے۔

عہدیدار کے مطابق یہ اجلاس تقریبا ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہا اور دوحہ کی دو الگ الگ عمارتوں میں منعقد ہوا۔

قطری اور مصری ثالثوں کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات اور وضاحتوں کا تبادلہ کیا گیا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ مذاکرات پیر کو دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے کیونکہ ثالث رکاوٹوں کو دور کرنے اور دونوں فریقوں کے مابین خلا کو کم کرنے کی کوشش میں ہر وفد کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی وفد حماس کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کافی حد تک مجاز نہیں تھا کیونکہ اس کے پاس ’کوئی حقیقی طاقت‘ ہیں تھی۔

بالواسطہ مذاکرات کا تازہ ترین دور ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جا رہے ہیں۔

نتن یاہو نے کہا کہ ان کے خیال میں پیر کو امریکی صدر کے ساتھ ان کی ملاقات سے مزید یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں پیش رفت میں مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اپنے مذاکرات کاروں کو واضح ہدایات دی ہیں کہ وہ ان شرائط کے تحت جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچیں جن کو اسرائیل نے قبول کیا ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی تازہ ترین تجویز پر مثبت جذبے کے ساتھ ردعمل ظاہر کیا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب بھی دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں کسی معاہدے پر اتفاق سے پہلے انھیں دور کرنا ضروری ہے۔

فی الحال، حماس اب بھی بنیادی طور پر انہی شرائط پر قائم ہے جن پر وہ پہلے زور دے چکی ہے جس میں کسی بھی جنگ بندی کے اختتام پر تمام حملوں کے خاتمے کی ضمانت اور اسرائیلی فوجیوں کا انخلا بھی شامل ہے۔ نتن یاہو کی حکومت پہلے بھی اسے مسترد کر چکی ہے۔

Share This Article