ڈونلڈ ٹرمپ سے شدید اختلافات،ایلون مسک کا نئی پارٹی بنانے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ڈرامائی اختلافات کے چند ہفتوں بعد ایلون مسک نے کہا ہے کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت بنا کر رہے ہیں۔

ارب پتی ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ انھوں نے امریکہ پارٹی قائم کی ہے اور اسے رپبلکن اور ڈیموکریٹک دو جماعتی نظام کے لیے ایک چیلنج کے طور پر پیش کیا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پارٹی امریکی انتخابی حکام کے ساتھ باضابطہ طور پر رجسٹرڈ ہے یا نہیں۔

مسک امریکہ سے باہر پیدا ہوئے تھے اور اس وجہ سے وہ امریکی صدارت کے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل ہیں، انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس پارٹی کی قیادت کون کرے گا۔

انھوں نے سب سے پہلے ٹرمپ کے ساتھ عوامی جھگڑے کے دوران ایک پارٹی بنانے کا امکان ظاہر کیا تھا جس کی وجہ سے انھوں نے انتظامیہ میں اپنا کردار چھوڑ دیا اور اپنے سابق اتحادی کے ساتھ ایک سرِ عام ایک خوفناک جھگڑے میں ملوث ہوگئے۔

اس دوران مسک نے ایکس پر ایک سروے پوسٹ کیا جس میں صارفین سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ میں کوئی نئی سیاسی جماعت ہونی چاہیے۔

سنیچر کے روز اپنی پوسٹ میں اس رائے شماری کا حوالہ دیتے ہوئے مسک نے لکھا ’ آپ ایک نئی سیاسی جماعت چاہتے ہیں اور آپ کے پاس یہ ہوگی۔‘

انھوں نے کہا کہ جب ہمارے ملک کو بربادی اور بدعنوانی سے دیوالیہ کرنے کی بات آتی ہے تو ہم جمہوریت میں نہیں بلکہ یک جماعتی نظام میں رہتے ہیں۔

’آج، امریکہ پارٹی آپ کو آپ کی آزادی واپس دینے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔‘

سنیچر تک وفاقی الیکشن کمیشن نے ایسی دستاویزات شائع نہیں کیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی باضابطہ طور پر رجسٹرڈ ہے۔

اگرچہ امریکی سیاست میں روایتی دو جماعتی نظام سے باہر ہائی پروفائل شخصیات موجود ہیں، لیکن ان کے لیے ملک بھر میں اتنی مضبوط مقبولیت حاصل کرنا مشکل ہے کہ وہ موجودہ جماعتوں کے لیے حقیقی خطرہ پیدا کرسکیں۔

Share This Article