لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی گولی لگنے سے ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

لیبیا کے سابق رہنما کرنل معمر قذافی کے بیٹے سيف الاسلام قذافی کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا ہے۔

ان کی عمر 53 برس تھی اور انھیں طویل عرصے تک اپنے والد کے بعد ملک کی سب سے بااثر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

لیبیا نیوز ایجنسی کے مطابق ان کی موت کی تصدیق منگل کے روز ان کی سیاسی ٹیم کے سربراہ نے کی ہے۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ ایک چار رکنی کمانڈو یونٹ نے زنتان شہر میں ان کے گھر پر حملہ کیا، تاہم حملہ آوروں کی شناخت واضح نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ان کی بہن نے دعویٰ کیا کہ وہ الجزائر کی سرحد کے قریب ہلاک ہوئے۔

1972 میں پیدا ہونے والے سيف الاسلام نے 2000 سے لے کر قذافی حکومت کے خاتمے تک مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم 2011 میں اپنے والد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ان پر حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام لگا۔

انھیں زنتان میں ایک حریف ملیشیا نے تقریباً چھ سال تک قید رکھا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلانے کی کوشش کی، جبکہ 2015 میں طرابلس کی ایک عدالت نے انھیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ دو سال بعد انھیں مشرقی شہر طبرق میں ایک عام معافی کے قانون کے تحت رہا کر دیا گیا۔

قذافی کے زوال کے بعد سے لیبیا مختلف ملیشیاؤں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں تقسیم ہے اور فی الحال دو حریف حکومتوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔

سيف الاسلام نے 2021 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، تاہم یہ انتخابات غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیے گئے۔

سیف الاسلام قذافی 25 جون 1972 کو طرابلس میں پیدا ہوئے۔ وہ قذافی کی دوسری بیوی کے بڑے بیٹے اور لیبیا کے رہنما کے نو بچوں میں سے دوسرے ہیں۔

1995 میں سیف الاسلام نے طرابلس کی الفتح یونیورسٹی سے فن تعمیر میں ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد ان کے والد نے اسے ہوٹلوں، مسجد اور رہائش گاہوں کے ساتھ ایک بہت بڑا رئیل سٹیٹ کمپلیکس کا منصوبہ تیار کرنے کا کام سونپا۔

اس کے بعد وھی سیف الاسلام نے اپنی تعلیم جاری رکھی، آسٹریا کے شہر ویانا میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب کیا، جہاں انھوں نے انٹرنیشنل بزنس اسکول سے ڈگری حاصل کی۔

اس عرصے کے دورانان کی دوستی آسٹریا کےدائیں بازو کے رہنما جرگ حیدر سے ہو گئی۔

انھوں نے 2008 میں لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ سوشل سائنسز لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی بھی حاصل کی۔

جب میڈیا رپورٹس نے اپنے والد کی حکومت کے خلاف اٹھنے والے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں ان کے کردار پر بحث شروع کی تو لندن سکول آف اکنامکس اینڈ سوشل سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہاورڈ ڈیوس نے اس وقت کے لیبیائی رہنما کے بیٹے کی طرف سے چلائے جانے والے خیراتی ادارے سے چندہ لینے پر تنقید کا سامنا کرنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

Share This Article