امریکا: ٹیکساس میں سیلاب سے 15 بچیوں سمیت 43 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی ریاست ٹیکساس کے وسطی علاقے میں سیلاب سے 15 بچوں سمیت 43 افراد کی ہلاکت کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے سینکڑوں امدادی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

کیر کاؤنٹی کے شیرف لیری لیتھا نے وعدہ کیا کہ ’یہ کام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ہر کوئی نہیں مل جاتا۔ ‘

لاپتہ لوگوں کی تلاش کے کام کے لیے دوسری رات کے دوران کاؤنٹی حکام کا کہنا ہے کہ ندی کے کنارے واقع ایک کیمپ سے 27 بچیاں لاپتہ ہیں۔

کچھ والدین نے سوشل میڈیا پر اپنے بچوں کی موت کی تصدیق کی۔

اب تک تقریبا 850 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔ اب بھی وسطی ٹیکساس میں ہفتے کے اختتام پر سیلاب کی متعدد وارننگز جاری کی گئی ہیں۔

ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے سنیچر کی سہ پہر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انھوں نے تلاش کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے ایک توسیعی اعلامیے پر دستخط کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتھک کوشش کریں گے کہ ’اس واقعے کا شکار ہونے والے ہر ایک شخص‘ کا پتہ لگایا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’جب کام مکمل ہوجائے گا تو ہم رک جائیں گے‘۔

انھوں نے بتایا کہ امدادی کارکن دریائے گواڈلوپ کے اوپر اور نیچے جا رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی جا سکے جو ممکنہ طور پر سیلاب میں بہہ گئے تھے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوئم نے کہا کہ وفاقی حکومت تلاش کی کوششوں میں مدد کے لیے کوسٹ گارڈ تعینات کرے گی۔

ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ وسطی ٹیکساس میں اس ہفتے کے آخر میں مزید سیلاب آسکتے ہیں۔

نیشنل ویدر سروس کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز آنے والے سیلاب سے بری طرح متاثر ہونے والے کچھ علاقوں میں 10 انچ تک بارش کا امکان تھا۔

Share This Article