بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کوئٹہ زون نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں اور ہاسٹلوں کو بند کرنا اب معمول بن چکا ہے۔
بیان میں کہا گیاکہ کل 2 جولائی بروز بدھ، جامعہ بلوچستان کے بوائز ہاسٹل 16 بلاک کے سامنے دو طلباء تنظیموں کے کارکنان کے درمیان ایک معمولی سی لڑائی ہوئی۔ اس معمولی مسئلے کو جواز بنا کر ہاسٹل کے انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں نے بنا کسی آفیشل اعلانیہ کے زبردستی بوائز ہاسٹل کو رات کے 9 بجے مکمل طور پر خالی کروایا، جو کہ تعلیم و طلباء دشمن سازش ہے جس کی ہم بھر پور مزمت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک معمولی مسئلے کی وجہ سے بوائز ہاسٹل کو ایک ایسے وقت میں بند کرنا جب وہاں ایک ہفتے بعد طلباء کے فانل ٹرم کے امتحانات ہونے والے ہیں، باعث تشویش ہے۔ جس سے طلباء تشویش کا شکار ہوکر پریشان ہیں کہ ان کا قیمتی وقت ضائع ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی پالیسی کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے تعلیم دشمن حربے آزمائے گئے ہیں جس کی واضح مثال بولان میڈیکل کالج ہے جسے اسی طرز عمل کے زریعے سات ماہ کے لیے بند کر دیا گیا تھا جس سے متعدد طلباء کا وقت ضائع ہوا جو کہ ہمارے لئے نہایت ہی تشویشناک ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ طلباء کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے نئے اور تعلیمی سہولتیں فرائم کیے جائیں نا کہ رات کی تاریکیوں میں ان کو در بہ در کرکے ان پر ذہنی دباؤ ڈال کر ان کے مستقبل سے کھیلا جائے۔
بساک کا کہنا تھا کہ حکومتی و ضلعی انتظامیہ کا اب معمول بن چکا ہے کہ ہر چھوٹی و معمولی مسئلے کو جواز بنا کر طلباء پر تشدد کرکے ان پر طاقت کا استعمال کیا جاتاہے۔ جب طلباء و طالبات اپنے جمہوری حقوق کیلئے آواز بلند کریں تو ان پر تشدد کرکے ان کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بطور طلباء نمائندہ تنظیم اس عمل کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جامعہ بلوچستان کے بوائز ہاسٹل کو فوری طور دوبارہ کھول دیا جائے تاکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے آئے طلباء بنا کسی مشکلات کے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھ سکیں۔