بلوچستان کے ضلع کیچ کے مر کزی شہر تربت میں ایرانی بارڈر کی بندش کے خلاف ڈی بلوچ کے مقام پر سی یک شاہراہ پر گذشتہ پانچ دنوں سے جاری دھرناگرفتار افراد کی رہائی کے بعد ختم کردیا گیا۔
منگل کی رات گئے ریاستی فورسز نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈائون کرکے متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا۔
نہتے مظاہرین پر فورسز کی لاٹھی جارج وتشدداور آنسو گیس کے استعمال سے متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ کئی حالت خراب ہوگئی۔
واقعہ کے ردعمل میں شہر بھر میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور گرفتار افراد کی رہائی سمیت فوری طور پر ایران بارڈر کھولنے کی مانگ کی ۔
ضلعی انتظامیہ اور عسکری حکام نے عوامی اجتماع اور طاقت کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر بارڈر کھولنے پر رضامندی ظاہر کی اور گرفتار افراد کی رہائی کا اعلان کیاتھا۔
گرفتار افراد رہائی کے بعد دھرناگاہ پہنچنے جہاں شرکاء سے خطاب کیا گیا اور دھرنا کو ختم کرنے کا اعلان کردیاگیا۔
گذشتہ رات ڈی بلوچ کے مقام پر جاری دھرناگاہ پر کریک ڈاؤن کرکے 3تھری ایم پی او کے تحت 14افراد کو گرفتار کیاگیا تھا جہاں وہ آج مزاکرات کے بعد رہا کر دیئے گئے۔