جبری لاپتہ ماہ جبین کو اب تک کسی عدالت میں پیش نہ کرنا تشویشناک ہے،نصر اللہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچ طالبہ ماہ جبین کی جبری گمشدگی کو ایک ماہ پورا ہوگیا لیکن اسے اب تک کسی عدالت میں پیش کیاگیا اور نہ ہی انکے خاندان کو انکے حوالے سے معلومات فراہم کیاجارہا ہے جو باعث تشویش اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ لواحقین نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سے شکایت کی کہ ماہ جبین سکنہ بسیمہ کو ملکی اداروں کے اہلکاروں نے رواں سال 29 مئی کو سول ہسپتال کوئٹہ سے ماورائے قانون حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

اہلخانہ نے تنظیم سے یہ بھی شکایت کی، کہ فورسز نے ماہ جبین کے بھائی یونس بلوچ کو ماہ جبین کی جبری گمشدگی سے ایک ہفتہ قبل بسیمہ سے انکے گھر سے حراست میں لیا، آج تک یونس کا بھی پتہ نہیں کہ وہ کس حال میں ہے اور کس ملکی ادارے کے حراست میں ہے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ماہ جبین اور اسکے بھائی کو اب تک کسی عدالت میں نہیں کرنا باعث تشویش اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بلوچستان حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچ طالبہ اور اسکے بھائی کی بازیابی میں اپنی کردار ادا کرے اور اگر ماہ جبین اور اسکا بھائی کسی غیر قانونی اقدام میں ملوث ہے تو انہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے اور انکے خاندان کے ساتھ ملکی قوانین کےتحت رویہ اختیار کرکے انہیں ماہ جبین اور یونس کے جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات دلائی جائیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article