کوئٹہ سے لاپتہ کمسن مصور کاکڑ کی لاش مستونگ سے برآمد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے 8 ماہ قبل اغوا ہونے والے تاجر کے بیٹےمصور کاکڑ کی لاش مستونگ کے علاقے مرو اسپلنجی سے برآمد ہوئی ہے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز گوریہ نے کہا ہے کہ لاش کی تصدیق ڈی این اے سے ہوگئی۔

پولیس کے مطابق بچے کو سر اورسینے میں گولیاں لگی ہیں۔

بچے کو 14 نومبر کو کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھاتین دن قبل بچے کی لاش ملی تھی ،لاش کا ڈی این اے لاہور بھیجا گیا تھابچے کا ڈی این اے ماں کے ساتھ کراس میچ کرگیا۔

ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز احمد گورایہ نے حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصور کاکڑ کے اغوا اور شہادت کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے باضابطہ طور پر تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسپلنجی سے ملنے والی لاش کا ڈی این اے مکمل ہو چکا ہے اور وہ معصوم مصور کاکڑ کی ہے، جو گزشتہ سال 15 نومبر کو کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا۔ڈی آئی جی گورایہ کے مطابق، واقعہ کے بعد سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے اس سنگین نوعیت کے اغوا کا نوٹس لیا، جس پر جے آئی ٹی قائم کی گئی، جس میں پولیس اور حساس ادارے شامل تھے۔ جے آئی ٹی کی 19 میٹنگز ہوئیں جن میں مختلف پہلوں پر تفصیلی تحقیقات کی گئیں۔

تحقیقات کے دوران 2000 رہائشی مکانات اور 1200 کرایہ کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔ 17 نومبر کو وہ گاڑی بھی برآمد کر لی گئی جس میں مصور کا اغوا کیا گیا تھا۔

ڈی آئی جی نے دعویٰ کیا کہ اغوا میں داعش کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں اور اس میں شامل تین افراد میں دو افغان باشندے بھی شامل تھے۔

ڈی آئی جی نے دعوے میں مزید کہا کہ مستونگ میں سی ٹی ڈی کے آپریشن کے دوران داعش سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائی کی گئی، جس میں ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جبکہ ایک گھر پر چھاپے کے دوران اسپلنجی میں قائم داعش کیمپ پر حملے کے دوران بچے کو شہید کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 23 تاریخ کو بچے کی لاش ہسپتال منتقل کی گئی اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے لاہور بھجوائے گئے۔ڈی این اے رپورٹ موصول ہونے کے بعد مصور کاکڑ کی شناخت کی باضابطہ تصدیق ہوئی۔

ڈی آئی جی گورایہ نے کہا کہ "ہم نے مصور کو زندہ بازیاب کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، تمام وسائل بروئے کار لائے، لیکن افسوس کہ ہم کامیاب نہ ہو سکے۔

Share This Article