بارڈر بندش کے خلاف تاجر و مزدوربرادری کا سی پیک شاہراہ بند کرنے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایرانی بارڈر کی مسلسل بندش اور کاروباری سرگرمیوں کی معطلی کے خلاف آل بارڈر اینڈ زمیاد گاڑی مالکان اور بارڈر ٹریڈ یونین نے سخت احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔

بدھ کی شام میر عیسیٰ قومی پارک میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیر کو تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کے بعد ریلی کی صورت میں تربت میں ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے غیر معینہ مدت تک دھرنا دیا جائے گا اور اگر مطالبات نہ مانے گئے تو سی پیک شاہراہ کو جدگال ڈن (ڈی بلوچ پوائنٹ) کے مقام پر مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

اجلاس میں شریک شرکاء نے بارڈر کی کئی مہینوں سے جاری بندش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی معیشت کا دارومدار بارڈر ٹریڈ پر ہے اور اس بندش نے ہزاروں خاندانوں کو روزگار سے محروم کر دیا ہے۔ گاڑی مالکان اور مزدور شدید مالی بحران کا شکار ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے کوئی واضح پالیسی یا حل سامنے نہیں آ رہا۔

اجلاس میں طے کیا گیا کہ آل بارڈر مالکان ضلع کیچ پیر کے روز تربت پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کرے گی جس کے بعد ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی جو ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے غیر معینہ مدت کے لیے دھرنے میں تبدیل ہو جائے گی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔

اجلاس میں شریک زمیاد مالکان نے مطالبہ کیا کہ بارڈر کاروبار کو سابقہ طریقہ کار کے مطابق بحال کیا جائے اور حالیہ دنوں میں بارڈر کے قریب لگائی گئی باڑ کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ باڑ نہ صرف روزگار کے مواقع پر قدغن ہے بلکہ مقامی عوام کی نقل و حرکت پر بھی غیر ضروری پابندی عائد کر رہی ہے۔

زمیاد مالکان نے خبردار کیا کہ اگر دھرنے کے باوجود حکام نے کوئی شنوائی نہ کی اور نوبت لیسٹ کی اشاعت کے ذریعے کاروبار بحال نہ کیا گیا تو تمام گاڑی مالکان مل کر سی پیک شاہراہ کو جدگال ڈن کے مقام پر مکمل طور پر بند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مجبوری کے تحت کیا جائے گا کیونکہ عوام کا صبر اب لبریز ہو چکا ہے۔

Share This Article