بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں 2 سرگرم سیاسی،سماجی وانسانی حقوق کے سرگرم کارکنان گلزار دوست اور وسیم سفر کے خلاف مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔
گلزار دوست اور وسیم سفر ،جبری گمشدگیوں ،ماورائے عدالت قتل اور دیگر انسانی حقوق پامالیوں کے خلاف ہمیشہ سرگرم ہیں۔
بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف سرگرم تربت سول سوسائٹی کے کنوینر اور معروف سیاسی و سماجی کارکن گلزار دوست کے خلاف کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے باضابطہ ایف آئی آر درج کرلی ہے۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گلزار دوست کا نام محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے فورتھ شیڈول میں شامل ہے، جس کے تحت ان پر کسی بھی سیاسی یا عوامی اجتماع میں شرکت کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے۔ تاہم حالیہ دنوں وہ تربت میں ایک دھرنے میں شریک پائے گئے، جسے سی ٹی ڈی نے فورتھ شیڈول کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
گلزار دوست بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت گرفتاریوں، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے خلاف درج کیے گئے اس مقدمے کو سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شدید تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جن کا مؤقف ہے کہ ریاستی ادارے سیاسی و سماجی کارکنان کی آواز کو دبانے کے لیے قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔
اسی طرح سیاسی ، سماجی وانسانی حقوق کے سرگرم کارکن وسیم سفر کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں تمام سیاسی آوازوں کو خاموش کرنے کے لئے قانون کو بطور ذریعہ استعمال کیا جارہا ہے۔
گذشتہ تین مہینوں سے بی وائی سی کی پوری قیادت اسی قانون کے تحت پابند سلاسل ہے۔