غزہ میں امدادی مراکز ایک روز کے لئے بند کردیئے گئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اسرائیلی فوج نے غزہ میں امدادی تقسیم کے مراکز کی طرف جانے والی سڑکوں کو جنگی زون قرار دے دیا ہے اور جس کے باعث تمام امدادی مرکز بدھ کو ایک دن کے لیے بند رکھے جائیں گے۔

غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (جی ایف ایف) کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مراکز کو ’اپڈیٹ، تنظیم نو اور بہتری کے کاموں‘ کے لیے بند کر رہا ہے اور اب وہ جمعرات سے دوبارہ امداد کی تقسیم شروع کرے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سے امداد کی تقسیم میں متحرک غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (جی ایف ایف) ایک متنازع امریکی و اسرائیل کی حمایت یافتہ امدادی نیٹ ورک ہے ۔

دوسری جانب ایک علیحدہ بیان میں اسرائیلی فوج نے لوگوں کو امدادی مراکز میں داخل ہونے یا ان کی طرف جانے والی سڑکوں پر سفر کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

منگل کی رات کو ایک امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 27 فلسطینی مارے گئے۔

یہ تین دنوں میں تیسرا ہلاکت خیز واقعہ ہے جو جی ایچ ایف کے مرکز کی طرف جانے والے راستے پر پیش آیا۔

اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیا کہ فوجیوں نے مشتبہ افراد کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ’مخصوص‘ راستوں سے ہٹ کر‘ ان کی طرف بڑھنے لگے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے فوجی غزہ کے شہریوں کو امدادی مراکز تک پہنچنے سے نہیں روک رہے۔

منگل کے واقعے کے بعد خان یونس میں ناصر اسپتال کے ڈائریکٹر عاطف الحوت نے کہا کہ زخمی افراد کو گولیوں کے زخموں کے ساتھ لایا گیا اور مغربی رفح میں امداد کے انتظار میں موجود شہریوں کے ہجوم پرمبینہ طور پر اسرائیلی افواج نے فائرنگ کی۔

سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بصل کے مطابق شہریوں پر ٹینکوں، کواڈ کاپٹر ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی گئی۔

علاقے میں کام کرنے والے ایک بین الاقوامی میڈیکل اہلکار نے منظر کو مکمل تباہی قرار دیا اور کہا کہ زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔

خبر رساں ادارے رویٹرز کے مطابق امدادی گروپ جی ایچ ایف کے ترجمان نے کہا کہ انھوں نے اسرائیلی فوج سے کہا ہے کہ وہ ’فوجی حدود کے قریب پیدل چلنے والوں کی رہنمائی کرے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا تصادم سے بچا جا سکے۔

امدادی ادارے نے مزید کہا کہ وہ شہریوں کے لیے واضح ہدایات تیار کرنے اور ان کی حفاظت کے لیے تربیت کو بہتر بنانے پر بھی کام کر رہا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہماری اولین ترجیح امداد حاصل کرنے والے شہریوں کی حفاظت اور عزت نفس کو یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے واقعات کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

Share This Article