کراچی کے ملیر جیل سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق کہ زلزلے کے باعث ہنگامہ آرائی شروع ہوئی تھی اور زلزلے کے باعث جیل کے بیرکس کی دیواروں میں دراڑ پڑ گئی تھی۔ کچھ قیدی جیل کی دیوار توڑ کر فرار ہوگئے۔
تاہم وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار نے کا کہنا تھا کہ ملیر جیل کی دیوارنہیں ٹوٹی،قیدی گیٹ سےنکلےہیں۔
جبکہ تازہ صورتحال کے حوالے سے ملیر جیل کے سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 78 کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس دوران فائرنگ سے ایک قیدی ہلاک جبکہ پولیس اور ایف سی کے دو، دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل کی دیوار نہیں ٹوٹی تھی بلکہ زلزلے کے جھٹکوں کے سبب قیدیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، جس کے بعد ایک سے ڈیڑھ ہزار قیدی جیل کے دروازے پر جمع ہوگئے اور ’اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کو کنٹرول کرنا مشکل تھا۔‘
ملیر جیل کے سپرنٹینڈنٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’زلزلے کے جھٹکوں سے وہ خوفزدہ ہو گئے تھے کہ کہیں چھت ان پر نہ گر جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی ٹیمیں فرار ہونے والے قیدیوں کے پتے پر بھیجی گئی ہیں اور جلد ہی تمام قیدیوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
خیال رہے گذشتہ رات کراچی میں وقفے وقفے سے متعدد بار زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے جس کے بعد مقامی اور سوشل میڈیا پر ایسی خبریں سننے کو ملیں کہ مبینہ طور پر جیل کی دیوار گرنے کے باعث کراچی کی ملیر جیل سے متعدد قیدی فرار ہو گئے ہیں۔
سندھ کے وزیر جیل علی حسن زرداری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی جیل اور ڈی آئی جی جیل سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی قیدی فرار ہوا ہے تو اسے ہر صورت میں دوبارہ گرفتار کیا جائے۔‘ انھوں نے غفلت کے مرتکب افسران کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
گذشتہ رات وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ ’جیل پر کوئی حملہ نہیں ہوا اور انکوائری کر ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ جیل کی دیوار زلزلے کے سبب گری یا اسے قیدیوں نے گرایا‘۔
ان کا کہنا تھا ’پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام قیدیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ ہی گھنٹوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔‘
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سپیشل سکیورٹی یونٹ و آر آر ایف کی پلٹن کو فوری طور پر روانہ کر دیا گیا ہے۔