یوکرین نے دعوی کیا ہے کہ اس نے روس پر ایک بڑا ڈرون حملہ کیا ہے جس میں اس کے فوجی اڈوں پر 40 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ اس حملے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈرون حملوں کے بعد آگ کے شعلوں نے جہازوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق روس کے خلاف حملے میں 472 ڈرونز، سات بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ اس حملے کو روس کے خلاف یوکرین کا اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں جاری تھیں اور دونوں ممالک ایک بار پھر ترکی کے شہر استنبول میں ملنے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ اس سے قبل روس کی طرف سے یوکرین پر بھی کیے جانے والے حملوں پر اپنا سخت ردعمل دے چکے ہیں۔ انھوں نے چند روز قبل روسی صدر سے فون پر تفصیلی گفتگو بھی کی تھی جس کے بعد انھوں نے جنگ بندی سے متعلق پیشرفت کا دعوی کیا تھا۔
روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ آج صبح یوکرین نے اس کے پانچ مختلف ریجنز میں ایئرفیلڈ پر حملے کیے ہیں۔
ٹیلیگرام پر روس کی وزارت دفاع نے اسے یوکرین کا مرمنسک، ارکوتسک، ایوانو، ریازن اور امور پر دہشتگردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق ان تمام حملوں کو پسپا کر دیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق ایئرفیلڈز کے قریبی علاقوں سے ایف پی وی ڈرونز کے حملوں کی وجہ سے ایوی ایشن کے متعدد آلات کو آگ لگی ہے جسے اب بجھا دیا گیا ہے۔
ارکوتسک کے گورنر کا کہنا ہے کہ ٹرکوں سے سریدنی اور سائبریا کے فوجی اڈوں پر حملہ کیا گیا ہے۔
یوکرین کی سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ آپریشن سپائیڈرز ویب کی ڈیڑھ برس سے منصوبہ بندی کی جا رہی تھی اور صدر زیلنسکی اس کو خود مانیٹر کر رہے تھے۔
روسی میڈیا کے مطابق مرمنسک اور ارکوتسک کے فوجی اڈے فعال ہیں۔