جیونی سے 2 نوجوان جبری لاپتہ ، راڑہ شم اور تربت سے 3 بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے جیونی سے پاکستانی فورسز نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔جبکہ راڑہ شم اور تربت سے 3 جبری لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔

ضلع گوادر کے تحصیل جیونی سے اطلاعات ہیں کہ گذشتہ شب کُلدان محلے میں پاکستانی فورسزنے گھروں پر چھاپہ مارکارروائی کے دوران 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے جن کے حوالے سے اب کوئی خبر نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

جبری لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت مراد جان ولد لال محمد اور راشد ولد پتیان کے ناموں سے ہوگئی ہے۔

جبکہ راڑہ شم اور تربت سے فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدہ ہونے والے 3 نوجوان بازیاب ہوگئے۔

راڑہ شم کے علاقے سے گزشتہ دو ماہ سے جبری لاپتہ 2 نوجوان بازیاب ہوگئے ہیں ۔

دونوں کا تعلق بزدار قبیلے سے ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ظفر ولد خان محمد مینگھاڑی بزدار اور آفاق ولد ایوب نمڑدیغ بزدار کو سی ٹی ڈی اور ایف سی نے 6 اپریل کو جبری لاپتہ کیا تھا۔

اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے ناصر آباد سے تعلق رکھنے والا نوجوان انضمام حسن ولد محمد حسن جو فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار تھا، بازیاب ہوگیا ہے۔

عید سے قبل انضمام حسن کی بازیابی پر فیملی میں خوشی کی لہڑ دوڑ گئی۔

Share This Article