بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ نے عالمی انسانی حقوق اداروں کی جانب سے بلوچستان میں آزادی اظہار پر قدغن اور انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں کرنے کے ریاستی اقدامات کے خاتمے کی اپیل پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشین فورم فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈویلپمنٹ (FORUM-ASIA)، فرنٹ لائن ڈیفنڈرز، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (FIDH) اور ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر (OMCT) کے تہہ دل سے مشکور ہیں جنہوں نے بلوچ انسانی حقوق کے محافظوں کی رہائی اور جاری کریک ڈاؤن کے خاتمے کے لیے مشترکہ اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر اپنی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو نبھانے پر زور دینے میں ان کا اصولی موقف نہ صرف بروقت بلکہ قابل تعریف ہے۔
واضع رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی چار دیگر تنظیموں نے مشترکہ طور پر بلوچستان میں آزادی اظہار اور پرامن اجتماع کے اپنے حقوق کا استعمال کرنے والے بلوچ انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں اور من مانی حراست کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
پانچوں تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشین فورم فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈویلپمنٹ (FORUM-ASIA)، فرنٹ لائن ڈیفنڈرز، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس، ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کہ بلوچ انسانی حقوق کے محافظوں کی رہائی اور پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق اختلاف رائے کے خلاف کریک ڈاؤن کو ختم کرے ۔