بارکھان اور آواران میں 4 لاپتہ افراد کو قتل کردیاگیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے بارکھان اور آواران میں 4 لاپتہ افراد کو پاکستانی فورسز نے قتل کرکے لاشیں پھینک دیں۔

ضلع بارکھان کے علاقے تنگ کریر میں آج بروزپیر کو صبح کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی ) نے ایک مبینہ مقابلے کے بعد 3 لاشیں رکنی بی ایچ یو اسپتال منتقل کی گئیں۔

لاشوں کی شناخت عبدالرحمن بزدار ولد فیض محمد بزدار سکنہ راڑہ شم، فرید بزدار ولد رحیم بزدار سکنہ راڑہ شم اور سلطان مری ولد عیدو مری کے ناموں سے ہوئی ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ تینوں افراد کئی مہینوں سے لاپتہ تھے۔

ترجمان سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ بارکھان کے علاقے تنگ کریر میں کارروائی کے دوران مسلح افراد سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 2 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے دیگر ساتھی فرار ہو گئے۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ہلاک افراد کے قبضے سے دو کلاشنکوف، ایک پستول اور دو تیار بم برآمد کیے گئے، اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔

تاہم، لواحقین اور بلوچ حلقوں کا موقف ہے کہ یہ ایک جعلی مقابلہ ہے، جس میں پہلے سے جبری طور پر لاپتہ افراد کو قتل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ضلع آواران کی تحصیل کولواہ میں فورسز نے غوث بخش نامی نوجوان کو کیمپ میں طلب کیا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گیا۔ چند گھنٹوں کے اندر اس کی تشدد زدہ لاش علاقے سے برآمد ہوگئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق غوث بخش کو فورسز نے صبح کے وقت اپنے کیمپ میں طلب کیا۔ چند ہی گھنٹوں کے بعد اس کی لاش ملی، جس پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نوجوان کو دوران حراست قتل کرکے لاش ویرانے میں پھینکی گئی ہے۔

Share This Article