مستونگ سے معروف وکیل چیف عطا اللہ بلوچ پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع مستونگ سے معروف وکیل چیف عطا اللہ بلوچ کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

واقعے کے بعد بار ایسوسی ایشن مستونگ نے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے لئے ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی )اور دیگر فورسز نے گزشتہ شب مستونگ کے علاقے کلی شادی خان میں ایڈووکیٹ چیف عطاء اللہ بلوچ کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی اور فورسز کے اہلکاروں نے رات 1 بجے سے 3 بجے تک گھر کو محاصرے میں لیے رکھا۔ اس دوران گھر کے تمام افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایڈووکیٹ چیف عطاء اللہ بلوچ کو اپنے ساتھ لے گئے۔

بار ایسوسی ایشن نے بلوچستان بار کونسل اور دیگر بار باڈیز سے مطالبہ کیا ہے کہ ایڈووکیٹ عطاء اللہ بلوچ کی فوری بازیابی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

بار رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وکلاء برادری کے خلاف ایسے اقدامات نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے عدالتی نظام اور انسانی حقوق کی پامالی کا خطرہ بڑھتا ہے۔

Share This Article