بلوچستان کے ضلع مستونگ سے معروف وکیل چیف عطا اللہ بلوچ کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
واقعے کے بعد بار ایسوسی ایشن مستونگ نے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کے لئے ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی )اور دیگر فورسز نے گزشتہ شب مستونگ کے علاقے کلی شادی خان میں ایڈووکیٹ چیف عطاء اللہ بلوچ کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی اور فورسز کے اہلکاروں نے رات 1 بجے سے 3 بجے تک گھر کو محاصرے میں لیے رکھا۔ اس دوران گھر کے تمام افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایڈووکیٹ چیف عطاء اللہ بلوچ کو اپنے ساتھ لے گئے۔
بار ایسوسی ایشن نے بلوچستان بار کونسل اور دیگر بار باڈیز سے مطالبہ کیا ہے کہ ایڈووکیٹ عطاء اللہ بلوچ کی فوری بازیابی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
بار رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وکلاء برادری کے خلاف ایسے اقدامات نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے عدالتی نظام اور انسانی حقوق کی پامالی کا خطرہ بڑھتا ہے۔