بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسریرا رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) کے کیس کے حوالے سے انسانی حقوق کے معروف کارکن اورایڈووکیٹ ایمان مزاری نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم "ایکس” پرگذشتہ روز اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ آج صبح 8:30 بجے سے ہم وکلا سپریم کورٹ میں موجود تھے، جب کہ عدالت کا وقت 9:00 بجے مقرر ہے۔ اگر کچھ تاخیر بھی ہو تو 9:30 بجے تک سماعت کا آغاز ہو جانا چاہیے، لیکن طویل انتظار کے بعد عدالت کے عملے کے پاس کوئی معلومات دستیاب نہیں تھیں، اور آخرکار کیس کی لسٹ ہی منسوخ کر دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ای سی ایل کیس کی آج سماعت متوقع تھی۔ پچھلی سماعت، جو 15 اپریل 2025 کو ہوئی تھی، میں عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ کابینہ کے سامنے پیش کیے گئے تمام مواد کو عدالت میں ریکارڈ پر لائیں، جن کی بنیاد پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔ یہ سب کچھ اگلی سماعت سے پہلے جمع کروانا تھا، مگر حکومت کو کافی وقت دیے جانے کے باوجود عدالتی ہدایت پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ آج ہی کے دن وزارتِ داخلہ کے نمائندے فائل تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آئے، لیکن انہیں بھاگ دوڑ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں تو نہ صرف انصاف میں تاخیر کی جاتی ہے بلکہ انصاف فراہم ہی نہیں کیا جاتا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو 7 اکتوبر 2024 کو کراچی ایئرپورٹ پر اُس وقت روک لیا گیا تھا جب وہ نیویارک ٹائمز میگزین کے زیرِ اہتمام 100 بااثر خواتین کے ایونٹ میں شرکت کے لیے امریکہ جا رہی تھیں۔ نہ صرف انہیں ایئرپورٹ پر ہراساں کیا گیا، بلکہ ایئرپورٹ سے نکلتے وقت راستے میں پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور اُن کی ساتھی سمی دین بلوچ کو زد و کوب کیا، اور ڈاکٹر مام رنگ بلوچ کا موبائل فون اور پاسپورٹ بھی چھین لیا تھا۔
اب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ گذشتہ ایک مہینے سے زائد کوئٹہ کے ہدہ جیل میں بلوچستان میں نقص امن کے نام پر ایک متنازع قانون کے تحت پابند سلاسل ہیں۔