تربت: ایران بارڈر کی بندش کے خلاف ریلی اور احتجاجی مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں جمعرات کے روز بارڈر سے وابستہ کاروباری افراد کی جانب سے ایک بڑی احتجاجی ریلی اور دھرنا دیا گیا۔

مظاہرین نے بارڈر کی طویل بندش کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور حکومت سے فوری طور پر تجارتی راستے کھولنے کا مطالبہ کیا۔

ریلی کی قیادت اللہ عطا محمد زئی نے کی جس میں ضلع کیچ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری حضرات، مزدور اور مقامی شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

ریلی شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی تربت پریس کلب کے سامنے پہنچی جہاں مظاہرین نے دھرنا دے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

عطا اللہ محمد زئی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے بارڈر بندش کو عوام کے معاشی قتل کے مترادف قرار دیا۔

عطا اللہ محمد زئی نے کہا کہ گذشتہ دو ماہ سے بارڈر بلاجواز بند ہے جس کی وجہ سے نہ صرف کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے بلکہ ہزاروں خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر بارڈر کو کھول کر کاروباری سرگرمیاں بحال کرے بصورت دیگر ہم اپنا احتجاج مزید وسیع کریں گے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بارڈر ٹریڈ مکران کے لوگوں کے لیے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے اور اس پر قدغن لگا کر ان کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر مداخلت کرے اور تجارتی راستے کھول کر مکران کے عوام کو معاشی بحالی کا موقع فراہم کرے۔

کیچ سمیت مکران ڈویژن کے لوگ نان شبینہ کے محتاج ہیں اب مجبور ہوکر ہم سڑکوں پر نکل آئے ہیں اگر ہمارے روزگار پر بندش نہیں ہٹایا گیا اور بارڈر نہیں کھولا گیا تو ہم مجبور ہوکر مذید سخت ترین لائحہ عمل طے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ریلی میں عام مزدور طبقہ شامل ہے جو ٹوکن مافیا اور بارڈر سے فائدہ سیمٹنے والا طبقہ ہے وہ ٹوکن کی خاطر باہر نہیں نکلا، اس طبقہ کو اپنے. مفادات عزیز ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے احتجاج سے گریز کی پالیسی اپنا رہی ہے۔

اس کے علاوہ آل پارٹیز کیچ نے ریلی کے بارے میں پروپیگنڈہ کیا اور اعلان کیا کہ ہمارے مزاکرات کامیاب رہے ہیں حالانکہ ہم نے کسی سے کے ساتھ کوئی مزاکرات نہیں کیے تو کامیابی کیسی۔

ریلی اور دھرنے کے باعث شہر میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی تاہم احتجاج پرامن رہا۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ اسلام آباد تک مارچ کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

Share This Article