فوجی آپریشن کے نام پر مستونگ میں مقامی آبادی کو مکمل محصور کیا گیا ہے، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ گزشتہ چار روز سے مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں جاری ریاستی بربریت نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو جنم دیا ہے۔ مقامی بلوچ آبادی کو محصور کر دیا گیا ہے اور متعدد افراد کو طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے خلاف مقامی افراد نے سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کے سامنے احتجاج بھی کیا، تاہم علاقے میں نیٹ ورک اور مواصلاتی نظام کی معطلی نے عوام کو مکمل طور پر ریاستی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسپلنجی میں جاری یہ بربریت بلوچستان میں جاری ریاستی مظالم کا تسلسل ہے، جہاں آئے روز مختلف علاقوں میں سیکیورٹی کے نام پر کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو تذلیل، جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل جیسے مظالم کا سامنا ہے۔ ان پُرتشدد پالیسیوں نے روزمرہ زندگی کو غیر محفوظ اور خوف زدہ بنا دیا ہے، جہاں ایک سپاہی کی بندوق شہریوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری فوجی آپریشنز نے ہزاروں افراد کو اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آواران، کولواہ، ڈیرہ بگٹی، کوہلو، کاہان، بولان اور مکران جیسے علاقوں میں آبادی کا بڑے پیمانے پر انخلا ہوا، جس نے نہ صرف مقامی ڈیموگرافی کو متاثر کیا بلکہ ہزاروں افراد کو اپنے مال مویشی، زمینیں اور روزگار کے وسائل ترک کر کے پناہ کی تلاش میں دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور کر دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پورے بلوچستان کو ایک سیکیورٹی زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں عوام کی معمول کی زندگی مسلسل نگرانی اور جبر کی زد میں ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی آغاز سے ہی ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرتی آ رہی ہے اور عالمی سطح پر ان مظالم کو اجاگر کرنے کے لیے متحرک ہے۔ ریاستی اداروں کی جانب سے بی وائی سی کے خلاف کریک ڈاؤن اسی جدوجہد کو خاموش کرنے کی ایک کوشش ہے۔

جبکہ میڈیا اور کمیونیکیشن کے نظام کی عدم موجودگی نے سیکیورٹی فورسز کو دور دراز علاقوں میں بلا خوف و خطر اقدامات اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے، جو کہ انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

Share This Article