خاموشی ہماری وراثت نہیں ہے، بی وائی سی نے پمفلٹ جاری کردی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی) کی مرکزی نشرواشاعت کی جانب سے تنظیم پر بدترین ریاستی کریک ڈائون،قائدین کی گرفتاری اوران کی قیمتی زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر بلوچ قوم کے نام ایک پمفلٹ جاری کی ہے ۔جس میں ریاستی جبر پر خاموشی کو موت قراردیدیا گیا ہے۔

"خاموشی ہماری وراثت نہیں ہے” کے عنوان سے جاری کی گئی پمفلٹ میں بلوچ عوام کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ بلوچ قوم کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، بیبگر بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ اور دیگر سینکڑوں بلوچ سیاسی کارکنان گزشتہ 38 دنوں سے غیر قانونی طور پر جیلوں میں قید ہیں۔آج ہم قوم کے سامنے ایک سوال رکھتے ہیں: ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کی قیادت جیلوں میں کیوں قید ہے؟ کیا وہ ذاتی مفادات کے لیے قید ہیں؟ کیا وہ سماجی جرائم میں ملوث ہیں؟یقیناً نہیں!

پمفلٹ میں کہا گیاکہ ہمارے رہنما بلوچ قومی بقا کی جدوجہد، بلوچ ماؤں کی فریاد بننے، اور بلوچ قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں قید ہیں۔ وہ آج اپنا سب کچھ قربان کر کے ہمارے لیے جیل کی تاریک کال کوٹھریوں میں قید ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ہم بحیثیت قوم خوش نصیب ہیں کہ ہر مشکل گھڑی میں اور ہر ظلم و جبر کے مقابل ہمارے رہنما اور قائدین صف اول میں کھڑے ہوتے ہیں۔ چاہے جبری گمشدگیوں کے خلاف تحریک ہو، بلوچ عوام کے قتل عام کے خلاف احتجاج ہو، طلباء پر ظلم ہو یا معاشی ناانصافیاں، ڈاکٹر ماہ رنگ، شاہ جی، بیبگر، گلزادی اور بیبو بلوچ ہمیشہ استقامت سے ڈٹے رہے۔ آج وہ اپنے قومی حقوق کی جدوجہد سے دستبردار نہ ہونے کی سزا جھیل رہے ہیں۔

بی وائی سی کے پمفلٹ میں کہا گیا کہ ریاست پاکستان نے نہ صرف ہمارے قومی رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے بلکہ ان کے ساتھ بدترین بدسلوکی اور ظلم روا رکھا ہے۔
گلزادی بلوچ کی گرفتاری کے وقت پاکستانی پولیس کے مرد اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا۔ چند روز قبل ہدہ جیل کوئٹہ میں پاکستانی پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے جیل میں گھس کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ بیبو بلوچ کو اغوا کر کے چوبیس گھنٹے کے بعد پشین جیل منتقل کیا گیا، جہاں ان کے سیل اور واش روم میں بھی نگرانی کے کیمرے نصب کیے گئے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر ماہ رنگ، بیبو، گلزادی اور دیگر تمام قیدی رہنماؤں کے ساتھ روا رکھا گیا یہ سلوک دراصل ریاست پاکستان کی بلوچ قوم سے گہری نفرت کا اظہار ہے۔ اور ہم بحیثیت قوم اس نفرت کو اپنے دل و دماغ میں ہمیشہ محفوظ رکھیں گے۔

پمفلٹ میں کہا گیا کہ جنہوں نے کل ہماری خاطر اپنی آواز بلند کی، کیا آج ہم ان کے لیے خاموش رہیں گے؟ کیا یہ ہمارا قومی فرض نہیں کہ ہم ان کے ساتھ مزاحمت میں شریک ہوں جنہوں نے اپنی آزادی اور سکون قربان کر کے جیل کی صعوبتیں چنی ہیں؟

آج ڈاکٹر ماہ رنگ، بیبو، گلزادی، شاہ جی اور بیبگر کی قید دراصل ہمارے قومی مستقبل کی قید ہے۔ آج جیل میں ہمارے وقار پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ آج بلوچ خواتین کے ساتھ کیا جانے والا سلوک پاکستان کی بلوچ دشمنی کا کھلا اظہار ہے۔ اور کیا ہم اس نفرت کے جواب میں خاموش رہیں گے؟ اگر ہم نے خاموشی اختیار کی تو سمجھ لیں کہ بحیثیت قوم ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھود رہے ہوں گے۔

آخر میں بلوچ قوم کو مخاطب کرکے کہا گیا کہ خاموشی موت ہے اور مزاحمت زندگی۔زندگی اور موت کا انتخاب اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔

Share This Article