بلوچستان کے علاقے بارکھان سے پاکستانی فورسز نے 5 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ ڈھاڈر سے فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار 6 افراد بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔
اطلاعات ہیں کہ رواں سال 3 اپریل کو بارکھان رکھنی کے مرکزی بازار سے چمالنگ ڈھڈر کے رہائشی محمدانی مری خاندان کے 5 افراد فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
جبری لاپتہ کیے گئے افراد میں سے بختیار ولد میانداد کو حراست کے دوران شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جنہیں 7 روز بعد رہا کر دیا گیا۔ تاہم تشدد کی شدت کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے اور جان کی بازی ہار گئے۔
دیگر 4 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن میں سے ایک کی شناخت موسیٰ ولد میانداد کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ باقی 3 افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب رواں سال 4 اپریل کو دوزان ڈھاڈر سے فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ محمد عمر ولد محمد انور، عبدالوہاب ولد غلام سرور، سراج احمد ولد پائند خان، بسم اللہ ولد غلام سرور، شاہجان ولد پائند خان اور صدام حسین ولد سائیں داد کرد سکنہ دشت مستونگ بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔