پاکستان کے سیکورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کے علاقے لیاری میں رینجرز اور محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے عسکریت پسندی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تنظیم سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب عسکریت پسند اختر کو گرفتار کرلیاہے۔
رینجرز ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اختر عرف اکو انتہائی مطلوب ملزم تھا، جس کے قبضے سے اسلحہ و بارود بھی برآمد کر لیا گیا، 2019 میں ملزم اپنے قریبی ساتھی فراز عرف گنج کے کہنے پر مسلح تنظیم میں شامل ہوا تھا۔
ترجمان رینجرز کے دعوے کے مطابق ملزم اپنے ساتھی فراز کے ساتھ ملکر متعدد حساس مقامات کی ریکی کرنے اور ویڈیوز بنانے میں ملوث رہا ہے۔
رینجر ترجمان نے اپنے دعوے میں مزید کہا ہے کہ ملزم نے انکشاف کیا کہ 9 مارچ 2021 کو اس نے اپنے ساتھی فراز کے ساتھ مل کر لیاری پر چینی شہریوں کی گاڑی پر فائرنگ کی واردات کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس فائرنگ کے واقعے میں چینی منیجر جیسن اور را ہگیر خالد زخمی ہوئے تھے، جس کی ایف آئی آر تھانہ بغدادی میں درج ہے اور ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
ترجمان رینجرزنے مزید دعویٰ کیا کہ ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ وہ اپنے ساتھی فراز عرف گنج کے ہمراہ حب چوکی میں صحافی اکرم ساجدی اور شاہد زہری کی ریکی کرنے اور ویڈیوز بنا کر بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے کمانڈر عبد الرحمٰن عرف عدنان عرف ڈیوڈ کو بھجوانے میں ملوث ہے۔
سیکورٹی حکام نے کہا کہ 10 اکتوبر 2021 کو بی ایل ایف کے عسکریت پسندوں نے حب چوکی کے علاقے میں شاہد زہری کی گاڑی پر مقناطیسی بم نصب کر کے بلاسٹ کیا تھا، جس کےنتیجے میں شاہد زہری ہلاک جب کہ 2 افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح یکم نومبر 2021 کو بی ایل ایف کے عسکریت پسندوں نے حب چوکی کے علاقے میں صحافی اکرم ساجدی کی گاڑی پر مقناطیسی بم نصب کر کے بلاسٹ کیا تھا، جس میں صحافی اکرم ساجدی مارا گیا تھا، ملزم سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
رینجرز ترجمان نے اپنے دعوے میں مزید کہا کہ گرفتار ملزم کو بمعہ اسلحہ و ایمونیشن مزید قانونی کارروائی کے لیے سی ٹی ڈی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
واضع رہے کہ پاکستانی فوج بشمول سیکورٹی ادارے ملک بھر میں اپنی ساکھ کی بحالی کے لئے بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں جعلی و من گھڑت کارروائیوں سے میڈیا کو ذریعہ بناکر اداروں پر بد اعتمادی کی فضا کو زائل عوامی رائے کو بدلنے کے لئے مخلتف ڈرامے رچا تے رہتے ہیں۔